پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد آج سے ایک بارپھربند کردیا گیا جس کے بعد پیدل آمدورفت اورتجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ سرحد کی بندش کے باعث سینکڑوں افراد پھنس کررہ گئے۔
شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ پاکستان میں فرقے موجود ہیں، مگر فرقہ واریت نہیں ہے، عزاداری کسی کیلئے تکلیف کا باعث نہیں، عزاداری حکومت کے بھی خلاف نہیں، یہ یزیدی سوچ کیخلاف ہے۔ اہلسنت ہمارے بھائی ہیں اور وہ جلوسوں اور مجالس میں ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔
ملی یکجہتی کونسل کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں 5 اگست کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے کونسل کے سربراہی اجلاس کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا، شرکاء نے مجلس وحدت مسلمین کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس کے انتظامات پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا،
اسٹیٹ بینک کے ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان کو اس فیصلے سے 2 ارب 80 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے اور یہ رقم رواں ماہ کے آخر تک ملنے کی توقع ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں، اراکین یورپی پارلیمنٹ کا صدر اور نائب صدر یورپی کمشن کو خط عالمی برادری کی جانب سے بھارت کی مذمت و ملامت کرنے کا ایک اور کھلا ثبوت ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں کسی قسم کی شدت نہیں پائی جاتی، اسلام تو امن وآشتی کا پیغام دیتا ہے، اگر طاقت کے زور پر اسلام پھیلانا ہوتا تو ہمارے نبی طائف کے بدووں سے پتھر کھانے کے باوجود بھی دعا نہ کرتے، آج ہم مغرب کے پیغام کو تو عام کرتے ہیں لیکن اسلام کے عالمی پیغام کو عام نہیں کرتے۔ جشن غدیر کے آخر میں ملکی سلامتی اور استحکام کیلئے اجتماعی دعا کرائی گئی اور کیک بھی کاٹا گیا۔
جشن آزادی پر بچوں کیلئے خصوصی قومی پرچم والے ماسک تقسیم کریں گے، سکیورٹی کے سخت انتظامات ہونگے۔
پاکستان کے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کا جسد خاکی تلاش کر لیا گیا ہے۔جس کی تصدیق وزیر اطلاعات گلگت بلتستان نے تصدیق کر دی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چترال اروندو سیکٹرکےپاس تعینات افغان آرمی کےکمانڈر نے پناہ لینےکیلئےپاک فوج سےرابطہ کیا۔ یہ افغان سپاہی پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر واقع اپنی چوکی پر مزید قبضہ جاری رکھنےکےقابل نہیں رہے تھے،لہذا ان 5 افسران سمیت 46 افغان فوجیوں کو پاکستان میں پناہ اورمحفوظ راستہ دیا گیا۔ جس کے بعد 46 فوجی چترال ارندو سیکٹر پہنچے۔