دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























ایام عزاءمسلمانوں کے درمیان دین الہٰی اور اہلبیت محمد کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں لیکن ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے
عزاداری سید الشہداءشہ رگ حیات، مجالس پر بلاجواز پابندیوں جبکہ جلوسوں میں رکاوٹ ،محدودیت،بونڈ فیلنگ اور این او سی کی شرط عائد کرنے جیسے اقدامات ناقابل قبول ہیں، عزادارانِ سید الشہداءپیغام وحدت امت اور اختلافات کوہوا دینے سے گریز کرتے ہوئے ملت واحدہ کے عظیم مشن کو پیش نظر رکھیں جبکہ بانیان مجالس سے توقع ہے کہ وہ ان عوامل کو ملحوظ خاطر رکھیں
حضرت مسلم بن عقیل امام کے نائب خاص ہونے کا شرف حاصل تھا اور انہوں نے اپنے رہبر و رہنما کے مطیع ہونے اور باطل کے سامنے ڈٹ کر کلمہ حق بلند کرنے کی اعلی مثال قائم کی یہی نہیں بلکہ اس راہ میں اپنے فرزندان کی قربانی پیش کرکے اس نکتہ کو بھی واضح اور روشن کیا کہ اصولوں کی سربلندی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاسکتا۔
امام محمد باقر ؑ ہے جس کے ذریعہ آپ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور سیکڑوں کی تعداد میں شاگردان تیار کئے ‘ چنانچہ اس دور کے دیگر مذاہب کے بھی بڑے بڑے علماءیہ کہتے دکھائی دیئے
حضرت ابوذر غفاری ؓکی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی کے راوی قرار پائے‘ ۔
شہید علامہ حسن ترابی کی 15ویں برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ قرآنی و نبوی تصور کے مطابق امت مسلمہ در حقیقت امت واحدہ ہے۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 15فیصد تک دنیا کی آبادی نان شبینہ کو ترستی ہے جبکہ غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنیوالے ادارے اوکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ہر منٹ میں11 افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں،تو ایسے میں غور کیا جائے کہ اس کی بنیادی وجہ کیا یہ غاصبانہ طرز حکومت و غاصب معاشی نظام نہیں ؟
پاکستان جو بھی حکمت عملی مرتب کرے گا اس کا اثر نہ صرف خطے اور پاکستان پرپڑے گا بلکہ اس کے درست نتائج بھی برآمد ہونگے اور سنجیدہ حلقوں سمیت اب قوم ملک کی اگلی حکمت عملی کی منتظر ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ او آئی سی امت مسلمہ کا متفقہ پلیٹ فارم ہے، اسے صرف رسمی اجلاس کی بجائے عملی اقدام اٹھانا ہوگا، او آئی سی حقیقی معنوں میں نمائندگی کا حق ادا کرے کیوں کہ یہ وقت اسی بات کا متقاضی ہے۔