مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























علامہ شبیر میثمی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے کہ زائرین کیلئے ایک قانون اور باقی مسافروں کیلئے دوسرے قانون پر عمل کرتی ہے،
اس ملاقات میں مرجع عالی قدر نے فرمایا کہ گناہ سے توبہ کرنےکا صحیح طریقہ یہ کہ انسان گناہ پر نادم ہو اور اس ندامت کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو آئیں اور پھر وہ خدا وند متعال سے معافی طلب کرے
سب سے بڑی نعمت عقل ہے جس کے سہارے انسان علم کے مدارج حاصل کرتا ہے اور ترقی کی منازل طے کرتا ہے۔طاقت و اقتدار بھی حاصل کر لیتا ہے۔اگر اس کا غلط استعمال کرے تو زوال کے ساتھ عذاب بھی آسکتا ہے کیونکہ اصل طاقت اللہ ہے، وہ جسے چاہے عزت و اقتدار دے ، جس سے جب چاہے واپس لے اور ذلّت سے دوچار کرے۔
بحرینی عوام کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ عیسی قاسم نے صیہونی وزیر خارجہ کے دورہ منامہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صیہونی دشمن سے سازباز بحرین کے عوام کے خلاف حکومت کی سیاسی جنگ ہے۔
عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے ایک بیان جاری کر کے اس ملک کے انتخابات کے بارے میں مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے انتہائی رہنما بیانات کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے حکومتی اداروں کی جانب سے انتخابات کے عمل کی حفاظت کی پابندی کئے جانے پرزور دیتے ہوئے انتخابی امیدواروں سے قانون و آئین پر عمل کرنے اور عوام سے بڑے پیمانے پر انتخابات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ ملت جعفریہ نے چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے جلوسوں میں مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے عزاداری کے دشمن خارجی گروہ اور ریاستی اداروں میں متعصب شرپسندوں کے منہ پر طمانچہ رسید کرکے پیغام دے دیا ہے
انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں 30 کلومیٹر اجتماعی اربعین واک بغیرکابغیر سیکورٹی چل کر مرکزی جلوس میں شامل ہونا، شرکا ءکا پرامن رہنا ،کسی قسم کا مسئلہ پیدا نہ کرنا ان کے محب وطن اور امن پسند ہونے کا ثبوت تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سرکاری و ریاستی ادارے بنیاد خدشات کی بنیاد پر اپنے ہی مہذب شہریوں کے خلاف اقدامات کی بجائے، ان کی امن پسندی کے عملی مظاہر ے کو سراہیں۔
30ستمبر 1988ءکو ڈیرہ اسماعیل خان میں شہری آزادیوں کو سلب کرنے کی ناکام کوشش ہوئی تو درجنوں عزاداران نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے عوام کی شہری آزادیوں اور آئین کی روسے حاصل حقوق کا تحفظ کرکے آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا ۔
اعلی دینی قیادت ہر ایک کی آنے والے انتخابات میں شعورانہ اور ذمہ دارانہ شرکت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اس میں موجود کچھ خامیوں کے باوجود ملک کے مستقبل کے لیے یہ ہی سب سے محفوظ راستہ ہے اور امید ہے کہ مستقبل ماضی سے بہتر ہو گا اور انہی (انتخابات) کے ذریعے ملک کو انتشار اور سیاسی رکاوٹوں کے پاتال میں گرنے کے خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔