مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























انہوں نے کہا کہ آج پاکستانیوں کو آزادی کے جو لمحات میسر ہیں وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد اور بے لوث قیادت ہی کا قیمتی ثمر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی مخالفت کرنے والوں نے اس عظیم قائد کے خلاف بھی تکفیری نعرے بلند کئے وہ آج بھی تکفیری سوچ اور نعروں کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان نفرتیں پھیلا رہے ہیں ہمیں متحد ہو کر نفرتوں کے سوداگروں کو شکست دینی ہوگی جو قائد اعظم کے پاکستان کی شناخت پر حملہ آور ہیں۔
آج ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہم قائداعظم کے روشن اصولوں پر عمل پیرا ہیں؟ اور جن مقاصد کے لیے عزت وناموس اور جانوں کے نذرانے دئیے گئے وہ حاصل ہوگئے ہیں؟ قائد اعظم نے جس ملک کی بنیاد ڈالی تھی اس میں جمہوریت کو اساسی حیثیت حاصل تھی، عدل وانصاف، امن وامان سے بھرپور معاشرے کا قیام تھا،عوام کو ان کے بنیادی اور شہری حقوق و آزادیوں کی پاسداری کا یقین دلایا گیا تھا
انہوں نے کہا کہ استاد کو ہمارے معاشرے میں والدین کا درجہ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی عزت اور احترام کا خیال رکھ سکے تو ایسے شخص کو نشان عبرت بنایا جائے
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے ایک ٹوئيٹر بیان میں افغانستان کے 6 ہمسایہ ممالک کے وزراء خارجہ کے ورچوئل اجلاس کے بارے میں مختصر رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بین الافغان مذاکرات اور معاہدوں کی حمایت کرتا ہے۔
زید شحاّم امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہيں : کہ انہوں نے فرمایا: حضرت صالح عليہ السلام نے ایک مدت تک اپنی قوم سے غیبت اختیار کی اور جب وہ غائب ہوئے تو اس وقت ایک مکمل اور خوش اندام مرد تھے کہ ان کے چہرے پر گھنی داڑھی اور متوسط قد کے دبلے سے بدن کے مالک تھے اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹ کرآئے تو اس وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ چکے تھے:
انہوں نے کہاکہ اب وفاق عبوری آئینی صوبہ کے بارے آگے بڑھ رہاہے تو ہم اِسے خوش آئند قرار دیتے ہیں البتہ خطے کے عوام کے ساتھ یہ وعدہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تناظرمیں مجوزہ ڈرافٹ میں اِس نکتہ کو شامل کیا جائے کہ کسی بھی رکاوٹ کے دور ہوتے ہی عبوری آئینی حیثیت از خود مستقل آئینی حیثیت میں تبدیل ہوجائےگی اور فی الفور نافذ العمل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں علم کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عالم کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ علماء انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں اور وہ معاشرہ سعادت اور فلاح کی منزل پا لیتا ہے جو جاھل کی بجائے عالم کی پیروی کرے۔
ہمیں معلوم نہیں کونسی طاقتیں انکے پچھےہیں لیکن لگتا ہے اس کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ہے اور وہ لوگ پیچھے بیٹھ کر یہ کام کروا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کی کوششیں کی گئ ہیں اور ناکام ہوئَے ہیں اور اب بھی انشاءاللہ ناکام ہو جائینگے ۔