صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























آج بروز جمعہ انجمن امامیہ بلتستان کے زیر سرپرستی انجمن شہریان، انجمن تاجران، سول سوسایٹی، شیعہ علماء کونسل، جے ایس او، مجلس وحدت المسلمین، آیی ایس او اور امامیہ آرگنائزیشن کی جانب سے سانحہ مچھ میں شیعہ ہزراہ برادری پر سفاکانہ ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج اور شہدا کے وارثین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسج سکردود سے یادگار شہدا تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
اس احتجاجی جلسہ میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے خلاف ہورہی دہشت گردانہ کاروائیوں پر پاکستانی حکومت سے لگام لگانے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
اس ملک میں پائیدار امن کیلئے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری بنانے کا وعدہ پورا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ کے مظلوموں کیساتھ ہیں، وہ جب تک دھرنے میں بیٹھے رہیں گے، ہم بھی یہاں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے 2012 اور 2021ء کے وزیراعظم میں فرق ظاہر ہونے لگا ہے، کل تک جو ہزارہ برادری سے اظہار یکجتہی کرتے ہوئے انہیں مظلوم کہتا تھا آج وہی عمران خان داعش کا ترجمان اور طالبان خان بن رہا ہے۔
سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی جانب سے سانحہ مچھ کے بارے میں اہم بیان
منفی درجہ حرارت میں سانحہ مچھ کے خلاف متاثرین کا میتوں سمیت احتجاج چھٹے روزمیں داخل ہوگیا ہے۔ کھلے آسمان تلے بیٹھے مظاہرین کی جانب سے وزیراعظم کی آمد تک لاشوں کودفنانے سے تاحال انکارکیا جارہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے قم المقدس شہر میں شہدائے سانحہ مچھ کی یاد میں طلاب پاکستان کا ایک عظیم اجتماع منعقد ہوا جس میں طلاب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جلسے سے خطاب میں مقررین نے مچھ سانحہ کے مجرمین کو انسانیت کا دشمن قرار دیا ہے۔
لاہور میں دوسرے روز سے جاری دھرنے میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اعجاز چوہدری نے شرکت کی اور دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کی۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں اور کوئٹہ کے شہدا کے لواحقین کے غم میں آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی واع کی رپورٹ کے مطابق الرصافہ عدالت کے خصوصی جج نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس کیس میں استغاثہ کے بیانات سننے اور تحقیقات کا عمل مکمل ہو جانے پر یہ عدالت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کئے جانے کا حکم سناتی ہے۔