صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے جامعہ سراجیہ نعیمیہ اور تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام پریس کلب سے ایوان اقبال تک ریلی بعنوان ’’پیغام شرم وحیا مارچ‘‘ نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت و ریاست آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کر سکی کہ اس دہشتگردی کیلئے کون سے عوامل ہیں، وہ اتنے طاقتور ہیں کہ جب چاہیں، جہاں چاہیں پاکستانی عوام کو دہشتگردی کا نشانہ بنا لیں۔
گورنر ہاوس میں کانفرنس سے خطاب میں منہاج الحسینؑ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عراق میں جب داعش نے شیعہ، سنی اور مسیحی خواتین کو کنیزیں بنا کر بازار میں فروخت کیلئے پیش کیا تو آیت اللہ سیستانی نے اپنے مقلدین کو حکم دیا کہ وہ بلاتفریق مذہب و ملت دین و عقیدہ تمام قیدی عورتوں کو پیسے دے کر خریدا جائے اور ان کو عزت و تکریم کیساتھ ان کے گھروں میں پہنچایا جائے، اور اس حکم پر عمل کیا گیا، یہی وہ سیرت النبی(ص) کا عملی مظاہرہ تھا۔
المصطفیٰ یونیورسٹی کے کلچرل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر حجت الاسلام و المسلمین رضائی نے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ کو امام خمینی کے راستے کا راہی قرار دیا اور کہا کہ اگر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور دیگر شہداء کے وصیت نامہ کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ تمام شہداء تمام تر فاصلے اور دوریوں کے باوجود ایک نظریہ اور ایک فکر کے حامل تھے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سانحہ پشاور کے خلاف بھرپور احتجاج اور یک آواز ہونے پر پوری قوم کا شکریہ ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شیعہ ایک بیدار اور جرات مند قوم ہیں۔ہم کربلا کے ماننے والے ہیں اور کربلا کے ماننے والے کبھی بھی ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے۔پشاور شہداء کے لہو نے پوری قوم کو ظلم کے خلاف ایک نئی تحریک دی ہے۔
انجمن بیداری اسلامی کے سربراہ نے اس دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی قوم ایسے وحشیانہ واقعات کا جواب ضرور دے گی اور دہشت گرد گروہ اپنے وحشیانہ جنایات، قتل عام، بچوں کو مارنے اور بچوں، بڑوں، مرد، عورت، بوڑھے اور جوان مظلوم انسانوں کو شہید کرنےکے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے اور کامیابی جبہہ مقاومت اور خطے کی مظلوم قوم کا مقدر ہو گی۔ ان شاءاللہ
ریلی سے خطاب میں وفاق المدارس الشیعہ کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نےکہاکہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اطلاعات کہتے ہیں انہیں قاتلوں کا پتہ ہے تو وہ پھر گرفتار کیوں نہیں کرتے؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت امن وامان قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اہل تشیع پاکستان کو بنانے والے ہیں ۔اور اب ان کی نسلوں کو مساجد میں قتل کیا جارہا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر شہر میں اہل تشیع کو شناخت کرکے بیدردی سے قتل کیا جارہا ہے اور تاحال ریاست نے ان کے تحفظ کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا، جس سے ملت تشیع میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ایران کے صوبہ بوشہر میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام و المسلمین غلامعلی صفائی بوشہری نے اپنے ایک بیان میں پشاور کی مسجد میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی۔