صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























۔قائد شہیدکی 34 ویں برسی کے موقع پر علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف الحسینی کی شخصیت انتہاپسندی‘ شدت پسندی اور جنونیت جیسے سنگین مسائل کے خلاف توانا آواز تھی ۔ اُن مسائل کے حل کے لئے علامہ حسینی نے اتحاد و وحدت اور صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا تھا کیونکہ حکمت و اتحاد امت قرآنی و نبوی فریضہ ہے جس پرہم مسلسل عمل پیرا ہیں۔
واقعه کربلاکی ہمہ گیری کی دلیل یہ ہے کہ دنیا کے ہر طبقہ فکر اور مذہب وملت سےتعلق رکھنے والے مشاہیر آپ کی ذات اور کردار سے برملاعقیدت کا اظہار کرتےدکھائی دیتے ہیں . بقول جوش ملیح آبادی: کیا صرف مسلمانوں کےپیارے ہیں حسین چرخ نوع بشر کےتارے ہیں حسین انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
انہوں نے کہاسیلاب متاثرین کے ریلیف کے سلسلے میں فوجی افسروں اور جوانوں کا کام قابل تعریف ہے ۔جنہوں نے موجودہ سیلاب کے باعث مشکلات میں گھری عوام کا احساس کرکے انہیں ریلیف فراہم کرنے کے دوران شہادت کا رتبہ پاکر فوج کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
مجالس میں ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا یہ ارشاد کئی مرتبہ سنا ہے: ”بیشک الحسین کا قتل مومنین کے قلوب میں ایک ایسی حرارت ہے جو کبھی نہیں بجھے گی۔“[۲]
علامہ سید علی رضا رضوی نے اپنے موضوع دین حکمت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین کی آمد کا مقصد انسان کو طرح کے عیب سے صاف کرنا ہے اور اسکی سوچ ، فکر ، کردار کو جہالت ، جمود ، قدامت پسندی جیسے مضر امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔
علامہ سید علی رضا رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام کی بنیاد عقل و منطق پر استوار ہے اور اس کے پیش کردہ تمام نظریات کا تعلق معقولات سے ہے کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کے تجربات ، تجزیات ، سوچ و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اسکا مصدر و منبہ وحی الہٰی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنا ذکر کربلا کیا جائے گا یاد حسین کا انعقاد ہوگا اتنا زیادہ وحدانیت پروردگار کا اثبات ہوگا اور اس ذات کی عبادت کا طریقہ و سلیقہ ہمیں آئے گا مجلس عزاء کے دروازے ہر آنے والے کے لئے کھلے ہیں یہ امام حسین کا فرش انسانیت کے لئے درسگاہ ہے اہلسنت تو ہماری جان ہیں اس فرش عزا کے دروازے غیر مسلموں پر بھی بند نہیں کیے جاسکتے
انہوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں دو گروہ موجود ہیں؛ ایک وہ جو امامؑ کو نہیں مانتے لیکن ایک گروہ وہ ہے جو امامؑ کو تو مانتے ہیں، لیکن امامؑ کے نظریے کو قبول نہیں کرتے. دوسرے گروہ کی تشخیص کے لئے چشم بصیرت کی ضرورت ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلین سید شفقت علی نقوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام زمان عج صرف شیعوں کا امام نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کے امام ہیں۔ تمام مخلوقات کیلئے امام کی اطاعت واجب ہے۔