صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی عزاداری کا مہینہ جہانِ تشیع بلکہ جہانِ اسلام کے لئے انتہائی عظیم دینی سرمائے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ جس میں مسلمانوں کو عاشورای حسینی (ع) سے الہام لیتے ہوئے اور ان کے فضل کے طفیل ظالموں اور ستمگروں کے چنگل سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے اور «هیهات منا الذلة»، کے نعرے کے ساتھ تقویٰ، آزادی، شجاعت، جرأٔت اور عدل و انصاف کی روش سیکھنی چاہیے۔
آیت اللہ خاتمی نے ایام محرم میں عزاداری کی مجالس کرنے کے حوالے سے کہا اہم یہ ہے کہ اس خیمہ گاہ اور تحریک کو بیان کیا جائے۔ خطبا اور ذاکرین اس خیمہ گاہ کی تشریح کریں کہ کون سے افراد اس سے متفق اور کون اس کے مخالف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اثاثوں کی فروخت اسٹریٹیجک اٹیک ہے اس کو روکا جائے۔اگر فروخت کرنے ہیں تو ماضی کے ان حکمرانوں کے اثاثوں کو فروخت کیا جائے جو قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہ محرم الحرام میں اپنے قلب و روح کی پاکیزگی کے ساتھ مجالس عزا میں شرکت کریں اور ہماری مجالس میں نوجوان طبقے کی فکری و روحانی تربیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے
کانفرنس کے لیے تقریبا 40 مقالات موصول ہوئے۔جن میں سیدہ شمائلہ رباب رضوی نے پہلی پوزیشن،مہرین رباب نے دوسری اور زرینہ تبسم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا کہ ملک کی بقاء اور اتحاد امت کے لیے کاوشوں کو نظر انداز کر کے ان کی مذہبی اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے جو کوششیں کی جا رہی ہیں وہ ناقابل قبول ہیں اور عوام اپنے شہری و مذہبی حقوق سے کسی طور دستبردار نہیں ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھا تو بند کمروں میں بیٹھ کر تشیع کو دیوار سے لگانے والوں کی کاوشیں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ نصاب تعلیم کی تکمیل تشیع کے بغیر ممکن نہیں۔
منہاج القرآن علما کونسل کے زیر اہتمام ملک بھر میں 500سے زائد مقامات پر ”پیغام امام حسین علیہ السلام“ کے عنوان سے کانفرنسز منعقد ہوں گی جن میں تحریک منہاج القرآن کے سکالرز، فلسفہ شہادت امام حسین ؓ اور شان اہل بیت اطہار پر روشنی ڈالیں گے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے محرم الحرام،فلسفہ شہادت،نواسہ رسول کے قیام کےمقاصد پر خطاب کرتے ہوئے کہا: امام حسین ع کی شہادت کا مقصد ہی امن، پیار اوراتحاد ووحدت کا درس ہے۔امام حسین ع محسن انسانیت ہیں۔اور فرقہ و مذہب کی تفریق سے بالا تر ہیں۔