غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نورانی و ملکوتی بارگاہ میں نماز عید الفطر آیت اللہ سید احمد علم الھدیٰ کی امامت میں ادا کی گئی۔
پاکستان، ایران، عراق اور ہندوستان سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں آج نماز عید کے روح پرور اجتماعات میں امت مسلمہ کی سربلندی کی دعائیں مانگی گئیں۔
نہوں نے کہا کہ عید الفطر رمضان المبارک کی نعمتوں کا شکرانہ اور اللہ کی جانب سے انعام و اکرام کا دن ہے بلاشبہ حقیقی عید اسی کی ہے کہ جو ماہ رمضان کے حقیقی فلسفے کے مطابق اس کی رحمتوں سے بہرہ مند ہوا اور خدا کی بیش بہا رحمتوں کے خزانے سے اپنا دامن بھر لیا اب انسان اس قابل ہو چکا ہے اور اپنے نفس کو گناہوں کی آلودگیوں سے بچا سکے اور وہ امام علی علیہ سلام کے فرمان کے مطابق ہرروز کو روز عید بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر اس دن کو عید قرار دیاگیا ہے جس دن مومن گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچا رہتا ہے۔ اپنے اعمال کا محاسبہ اور نفس کی سرزنش کرتے رہنا وہ بہترین عمل ہے جو انسان کو اللہ کے نزدیک کرتا ہے۔
انہوں نے اساتذہ اور انبیاء کے کاموں میں شباہت کی اہم وجہ انسانوں کی تربیت جانتے ہوئے کہا کہ جوعلم اساتذہ اپنے شاگردوں کو سکھاتے ہیں وہ انسانوں اور پورے معاشرے کی تربیت کا مقدمہ ہے،اساتذہ نئی تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھنے والے ہیں اس پر رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بھی تاکید فرمائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض زبانی دعووں اور دلفریب وعدوں سے عوام کی قسمت بدلی نہیں جا سکتی، اس کے لئے نیک نیتی، خلوص اور پوری لگن کے ساتھ عملی جدوجہد کی ضرورت ہے، کم سے کم اجرت میں برائے نام اضافہ کرکے عوامی مقبولیت کے خواب دیکھنا عوام اور خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ القدس بیدار، زندہ اور باضمیر لوگوں کا دن ہے۔حکیم الامت ، بت شکن امام خمینی کے بابصیرت اور دانشمندانہ اعلان کے باعث آج دنیا کے ہر کونے سے صہیونی مظالم کے خلاف آواز بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔ عالمی یوم القدس کسی مخصوص مکتبہ فکر کا دن نہیں بلکہ آج کے روز دنیا بھر میں شیعہ سنی مسلمان مل کر یوم القدس منا رہے ہیں۔
چودہویں صدی کے فلسفی اور مفکر استاد شہید مرتضیٰ مطہری کہ جنہوں نے ۱۳۲۵ ہجری شمسی میں قلم کاری کا کام شروع کیا اور پھر اسے اپنی زندگی کے آخر تک جاری رکھا ان کی کتابیں عام فہم، موضوعات میں تنوع ، وسعت اور معاشرے کی ضرورت کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے مختلف زبانوں میں مقبول واقع ہوئی ہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے تہران میں عالمی یوم قدس کی ریلی میں شرکت کی اور فلسطین کے مظلوم اور ستمدیدہ عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔