یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں انسان کی ضرورت کی ہر چیز مہیا کر دی ہے اور زندگی کے تمام تقاضے اس کی دسترس میں ہیں.
نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان ڈاکٹر عبدالغفورراشد نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان کی زندگی صبر اور شکر کے درمیان ہے اور یہ دونوں اس کے بڑے ہتھیار ہیں ۔جو مومن انسان مشکل آنے پر صبر اور خوشی ملنے پر شکر ادا کرتا ہے۔
تحریک جہاد اسلامی کے سینئر رہنما نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ اتحاد کرنے والے عرب ممالک نے مسئلہ فلسطین سے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا اور امریکہ نے فلسطینی حامیوں کو جنگ، محاصرے اور پابندیوں کی دھمکی دی، لیکن پھر بھی ملت فلسطین اپنی سرزمین پر استقامت کے ساتھ کھڑی مزاحمت و مقاومت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ فدا حسن عبادی نائب امام جمعہ سکردو نے جامع مسجد سکردو میں جمعہ کے خطبے میں تقوی الہی سے قریب اور برائیوں سے دوری اختیار کرنے کی تاکید کی۔
جامعہ مدینة العلم کے سربراہ نے کہا کہ آج ایک عظیم عالم مجاھد کی وفات کی خبر سنی جس کا جتنا اظہار غم کیا جائے کم ہے صنف روحانیت ایک علمی ستارہ سے محروم ہو گئی مرحوم سبزواری کا چلا جانا ایک ایسا خلا ہے جو صدیو پورا نا ہوسکے گا۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک میں تیز رفتار ترقی کا ایک شعبہ سائنس و ٹکنالوجی کا شعبہ تھا اور رہبر انقلاب نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی و سائنسی ترقی کے لئے آخری سانس تک کھڑا رہوں گا۔
مجلس وحدت المسلمین پاکستان شعبہ قم کے جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام محمد عادل مہدوی نے کہا کہ ہفتہ قبل پاکستان کے شہر کوئٹہ کو نشانہ بناکر غریب کان کنوں کے گلے کاٹے گۓ اور اب بغداد میں بم دھماکہ کرا کر بے گناہ لوگوں کی جانیں لے لی گئی۔
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آج ایران مختلف ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کے باوجود،الحمدللہ! استقامت اور استحکام کے ساتھ کھڑا ہے اور مختلف شعبہ جات میں قابل ذکر ترقی بھی کی ہے،جب اس مشکل دور میں ملک استقامت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہا، تو اب بھی استقامت اور استحکام کے ساتھ اسی طرح آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمِ اسلام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن کا مل کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو شیعہ سنی مشترکات، اختلافات کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔جبکہ ہندو، یہودیت، عیسائیت، بدھ مت اور سکھ مذاہب میں انسانی حوالہ سے اشتراک کے باوجود فکری، اخلاقی، نظریاتی اور عقائد کے حوالہ سے اختلاف موجود ہے۔