0

حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم (دوسری قسط)

  • News cod : 18321
  • 06 ژوئن 2021 - 15:02
حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم (دوسری قسط)
ابو عبداللہ صالحٰ کہتے ہیں :امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک شیعہ نے مجھ سے کہا کہ میں (بارہویں امام )کے نام اور مکان کے بارے میں سوال کروں ؛تو ناحیہ مقدسہ سے جواب آیا :اگر انہیں (دشمن) اس کا نام بتایا تو وہ فاش کر دیں گے اور اگر انہیں جگہ و مکان کا پتہ چلا ،تو دشمنوں کو ادھر کا بتا دیں گے ۔

دوسری قسط :

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)

چوتھی قسم :وہ روایات کہ جن میں امام معصوم یا راوی کی طرف سے حضرت کا نام بتایا گیا ہے ۔
شیخ صدوق، محمد بن ابراھیم کوفی سے روایت کرتے ہیں :
“إنّ أبا محمَّد بعثَ الی بَعضِ مَن سمّاہ لِی، شاۃً مذبوحۃً و قالَ: ھٰذہ مِن عقیقَۃ إبنی مُحمَّد علیہ السَّلام ” ( کمال الدین ، ص ۲۴۱)امام حسن عسکری علیہ السلام نے کچھ لوگوں (کہ مجھے انکا نام بتایا ) کے لئے ذبح شدہ بھیڑ بھیجی اور فرمایا :یہ میرے بیٹے محمد ؑ کا عقیقہ ہے ۔
علامہ مجلسی حضرت کے نام کے بارے میں تسمیہ کی حرمت کے قائل تھے اور اسی قسم کی روایات کی توجیہ کرتے تھے ۔ ان چار اقسام کی روایات میں پہلی اور دوسری قسم کی روایت ایک دوسرے کے نزدیک ہے اور ایک معنی و نتیجہ کو بیان کرتی ہیں۔ اس حوالے سے تین قسم کے نظریات موجود ہیں :
:۱)حضرت کے نام شریف کی زمانہ ظہور تک حرمت ہے؛جیسے علامہ مجلسی ، شیخ صدوق ، شیخ مفید، طبرسی، میر داماد ، محدث جزائری، محدث نوری ، میرزای شیرازی ، میرزا محمد تقی اصفھانی۔۔۔ نقل ہوتا ہے کہ میر داماد ، میرازا شیرازی اور نوری نے اس بات پر اجماع کا دعوی کیا ہے اور جزائری نے اکثر کا دعوٰی کیا ہے ۔
:۲)حضرت کے نام کی حرمت تقیہ اور خوف کی وجہ سے ہے؛ جیسے اربلی، حر عاملی ، خواجہ نصیر الدین طوسی، فیض کاشانی ، مکارم شیرازی اور ۔۔۔
:۳)حضرت کے نام کی حرمت غیبت صغری کے زمانہ سے خا ص تھی ۔ علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں اس نظریہ کو بعض علماء کی طرف نسبت دی ہے ۔ ( بحار الانورا، ص ۳۲)
علماء اور فقہاء کی آراء و نظریا ت کا تجزیہ:
اس حصہ میں چند شیعہ علماء اور فقہاء کے نظریات کو نقل او ر ان کا تجزیہ کیا جائے گا ۔
:حرمت کے قائلین:
۱)علامہ مجلسی
وہ مرآۃ العقول میں روایات کی سند کا تجزیہ کرتے ہوئے اور کچھ اور روایات کو نقل کرتے ہیں اور پھر اصل بحث اور اس کےاثبات میں وارد ہوتے ہیں ۔
حدیث ۱:” علی بنِ محمّد، عمَّن ذکَرہ، عَن محمّد بن احمَد العَلوی، عَن داودِ بن القَاسم الجَعفَری، قالَ : سمعتُ أباالحسَن العسکَری علیہ السّلام یقُول : الخَلَف من بَعدی الحَسن فکیفَ لکُم بالخَلَف من بَعد الخَلَف ؟ فقلتُ: ولِم جَعلنی اللہُ فداک ؟ قالَ : إنّکُم لَا ترونَ شخصَہ ولَا یحلّ لکم ذکرہ باسمِہ ،فقلتُ : فکیفَ نذکرُہ ؟ فقالَ : قولُوا : الحجَّۃ من آل محمّد صلواتُ اللہ علیہ وسَلامُہ ” ( مرآۃ العقول ، ج ۴، ص ۱۶، اصول کافی، ج ۱، ص ۳۳۲)
داود بن قسم جعفری کہتاہے: میں نے امام نقی علیہ السلام سے سنا کہ فرما رہے تھے :میرے بعد جانشین حسن ہے اور تم اس کے جانشین کے بارے میں کیا کرو گے ؟ ہم نے عرض کی کیا ہوا ؟ اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ۔ فرمایا :کیوں کہ تم اس کے وجود کو نہیں دیکھو گےاور یہ بھی حق نہیں رکھتے کہ اسے نام سے یاد کرو۔ میں نے عرض کی :تو ان کا تذکرہ کیسے کریں گے ؟فرمایا : کہو حجت آل محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہ ۔
علامہ مجلسی اس حدیث کے تجزیہ میں اسے مجہول اور ضعیف حدیث سمجھتے ہیں۔
حدیث ۲: “علی بن محمّد، عن أبی عبداللہ الصّالحی، قالَ : سالنی اصحابنَا بعدَ مضی أبی محمد ؑ ،أن أسألَ عن الاسم والمَکان، فخرج الجَواب: إن دللتَھم علی الاسم أذاعُوہ ، وإن عَرفو المکان دلّوا علَیہ ” ( مرآۃ العقول ، ج ۴، ص ۱۶، اصول کافی، ج ۱، ص ۳۳۲)
ابو عبداللہ صالحٰ کہتے ہیں :امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک شیعہ نے مجھ سے کہا کہ میں (بارہویں امام )کے نام اور مکان کے بارے میں سوال کروں ؛تو ناحیہ مقدسہ سے جواب آیا :اگر انہیں (دشمن) اس کا نام بتایا تو وہ فاش کر دیں گے اور اگر انہیں جگہ و مکان کا پتہ چلا ،تو دشمنوں کو ادھر کا بتا دیں گے ۔
علامہ مجلسی اس حدیث کے بارے میں زیادہ بحث کرتے ہیں ،کیونکہ اس سے جواز کا استفادہ ہوتا ہے جب کہ یہ ان کی اپنی نظر (حرمت تسمیہ) کے خلاف ہے۔ البتہ ان کا دوسری حدیث کے بارے میں بیان مکمل نہیں ہے بلکہ کچھ حذف ہوا ہے نیز علامہ مجلسی کی طرف حدیث کی سند کا تجزیہ نہیں کیا گیا ۔صرف اس کے حاشیہ میں لکھا گیا ہے : “کذا ” یعنی حدیث کی سند میں قوی اور ضعیف ہونے کے حوالے سے سکوت کیا اور کچھ نہیں بیان کیا ؛لیکن صالحی کے بارے میں کہتے ہیں:اسکی شخصیت معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ وہی ابو عبدا للہ بن صالح ہے یا کوئی اور شخص ؟ روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتاہے کہ وہ حضرت کے سفیرو ں اور نائبین میں ہے یا شاید شیعوں اور حضرت کے سفیروں میں رابطے کا ذریعہ ہو؛ کیونکہ ایسا شخص بعنوان نائب بیان نہیں ہوا۔
دوسری طرف سے یہ وجہ “ان دللتھم…” غیبت صغری کی طرف اشارہ کی حد تک ہے ؛ نہ کہ دلالت کی حد تک ۔ پس یہ اشارہ ان روایات کے ساتھ تعارض نہیں رکھتا کہ جو عمومیت پر صراحت رکھتی ہیں ،یعنی وہ روایات جو نام لینے کی حرمت میں بطور مطلق اور زمانہ ظہور تک کی عموعمومیت رکھتی ہیں.

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18321