1

حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم(چوتھی قسط)

  • News cod : 18627
  • 16 ژوئن 2021 - 17:24
حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم(چوتھی قسط)
امام رضا علیہ السلام سے حضرت قائم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو میں نے سنا کہ وہ فرما رہے تھے : نہ ان کا وجود دیکھا جائے گا اور نہ انکا نام بیان ہو گا۔

حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)

تیسری تو جیہ :وہ روایات کہ جن میں امام علیہ السلام “تسمیہ ” کا حکم دیتےہیں، یعنی آئمہ کا نام ذکر ہو، تو یہاں ایسی روایات پائی جاتی ہیں کہ جو آئمہ اطہار علیہم السلام کے نام کو نماز کے قنوت یا نماز کے بعد بیان کرنے کو کہتی ہیں۔
علامہ مجلسی اس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں:” وَما ورَدَ فی الأخبَار من الأمر بِتسمیۃِ الآئمّہ ،فیُمکن أن یکونَ علی التغلِیب أو التجوّز بذِکرہ بِلقبِہ و سائر الآئمَّۃ بأسمَائھِم” یعنی وہ روایات کہ جو حضرت کے نام شریف کو بیان کرنے کا حکم کرتی ہیں، یا تو باب تغلیب کی بناء پر ہے ،یعنی گیارہ آئمہ کو نام سے یاد کیا جائے ؛لیکن بارہویں امام کو کنیت یا لقب کے ساتھ یاد کیا جائے ، یا بعنوان مجاز گوئی ہے۔
۴)”عدّۃ من اصحابنَا عَن جعفر بنَ محمد، عَن ابن فَضال، عَن الریان بن الصلت قَال : سَمعتُ ابَا الحسَن الرضَا علیہ السلام یقولُ: وسُئل عن القائمُ ، فقالَ : لا یُری جسمُہ ولَا یسمّی اسمُہ ” ( اصول کافی، ج ۱، باب النھی عن الاسم، ص ۳۳۳، ح ۳)
ریان بن صلت کہتے ہیں :امام رضا علیہ السلام سے حضرت قائم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو میں نے سنا کہ وہ فرما رہے تھے : نہ ان کا وجود دیکھا جائے گا اور نہ انکا نام بیان ہو گا۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں :بظاہر یہ حدیث موثق ہے کیوں کہ اظہر یہ ہے کہ حدیث کے راوی جعفر بن محمد بن عون اسدی ہیں کہ جن کی بظاہر توثیق ہوئی ہے ۔
۵)” محمّد بنِ یحیٰی، عَن محمّد بنِ الحُسین بن مَحبُوب ،عَن ابن رئاب، عَن ابی عَبداللہ علیہ السلام قالَ : صَاحب ھذا الأمر لَا یسمّیہ باسمِہ الّا کَافر” ( اصول کافی، ج ۱، باب النھی عن الاسم، ص ۳۳۳، ح ۴)
ابن رئاب امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا :سوائے کافر کے کوئی شخص صاحب الامر کے نام شریف کو زبان پر نہیں لائے گا۔ یعنی جوبھی انہیں نام کےساتھ یاد کرے گا ،وہ کافر ہے۔
یہ روایت مضمون کے اعتبار سے سخت ترین بیان پر مشتمل ہے لیکن علامہ مجلسی اسے صحیح جانتے ہیں اور کہتے ہیں:” فِیہ مبالغَۃ عظیمَۃ فی تَرک التَّسمیۃ ” یعنی اس حدیث میں بہت زیادہ مبالغہ ہوا ہے کہ حضرت کا نام نہیں لینا چاہئے۔
وہ اس روایت کےبارے میں چند توجیہیں بیان کرتے ہیں :
پہلی :ایسے شخص کو اس لئے کافر کہیں گے کہ اس نے مخالفت کی اور حضرت کو نام کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ کافر بھی مخالفت کی بناء پر ،منع ہوا کام انجام دیتاہے اسی بناء پر یہ بھی کافر کی مانند ہے ۔
دوسری :روایات میں ایسے شخص پر کافر کا اطلاق بہت زیاد ہے کہ جو کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو :
” وقَد وردَ فی بعضِ الأخبَار أنّ ارتکاب المَعاصی الّتی لَا لذَّۃ فیہا، تَدعو النَّفس إلیھا، یَتضمنُ الاستخفَاف وھُوَ یُوجبُ الکا إذ بعدَ سماعِ النَّھی عَن ذلکَ ، لَیس إرتکابُہ الّالعدم الاعتنَاء بالشّریعَۃ و صَاحبھاو ھُو عینُ الکُفر ”
بعض روایات میں آیا ہے کہ ایسی معصیتوں کا ارتکاب کہ جن میں لذت نہیں ہے ، نفس کو ان کی طرف مائل کرنا باعث بنتا ہے کہ حکم خدا کو حقیر جانا جائے اور باعث کفر ہے ۔ لہٰذا حضرت کے نام کو بیان کرنے کی نہی کے بعد ان کے نام کو بیان کرنے کا ارتکاب ،شریعت اور صاحب شریعت سے لا پرواہی کا اظہار کرنا ہے اور یہ بے اعتنائی عین کفر ہے ۔
تیسری :وہ لفظ ” قیل “کے ساتھ آنے والی توجیہ کے بارے میں کہتے ہیں :یہاں مراد یا تو خود امام زمان علیہ السلام ہیں یعنی جو بھی حضرت کا مخصوص نام بیان کرے، کافر ہے یا مراد سب آئمہ علیہم السلام ہیں یعنی کسی کا نام بھی نہ لیا جائے مثلا یہ کہنا : یا جعفر یا موسی!….. ایک قسم کی توہین ہے اور بے احترامی کہلائے گی اور باعث کفر ہے ۔
البتہ اس قسم کی توجیہ خود کو زحمت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ ( مرآۃ العقول، ج ۴، ص ۱۷)
کمال الدین میں ایک اور حدیث ،امام مہدی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے کہ :
۶)حدّثنا المظفّر بنُ جعفرَ بن المُظفر العَلوی (رضی اللہ عنہ ) قالَ : حدّثنی جعفرُ بن محمّد مسعُود وَ حیدرُ بن محمّد بن السمَر قندی قالَا : حدّثنا أبوالنّضر محمّد بنِ مسعُود قالَ: حدّثنا آدمُ بن محمّد البَلخی قالَ: حدّثنا علیُّ بن الحسن الدقَاق وَابراہیمُ بن محمّد قالَا : سمعنَا علی بنُ عاصم الکُوفی یقولُ : خرجَ فی تَو قیعَات صاحبِ الزّمان : ملعون ملعون، من سمّانی فی محفلٍ منَ النّاس ( کمال الدین ، ج ۲، ص ۴۸۲، باب ۴۵، ح ۱)
علی بن عاصم کوفی کہتے ہیں کہ حضرت صاحب الزمان (عج) کی طرف سے پیغام اس مضمون کے ساتھ آیا کہ : وہ شخص ملعون ہے ملعون ہے کہ جو میرا نام لوگوں کی محفل میں لے۔
اگر فرض کریں کہ اس توقیع کی سند علی بن عاصم تک موثق ہو ، لیکن خود یہ شخص مھمل ہے کتب رجالی میں اس کا نام نہیں آیا،اگرچہ آقای نمازی اسے ممدوح افراد میں شمار کرتےہیں اور کہتے ہیں :
لَم یذکُروہ ،ھوَ من أصحاب أبی محمّد العَسکری ، أراہُ البساطَ الذِی کان عَلیہ آثارُ الأنبیاء۔۔۔ وَفیھَا دلالات علٰی مدحِہ و کَمالِہ ” ( مستدرکات علم رجال الحدیث، ج ۵، ص ۳۹۲)
جاری ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18627