1

سید نیاز نقوی تقریب مذاہب اسلامی کے علمبردار تھے،آیت اللہ نظری منفرد

  • News cod : 24094
  • 22 اکتبر 2021 - 12:59
سید نیاز نقوی تقریب مذاہب اسلامی کے علمبردار تھے،آیت اللہ نظری منفرد
آیت اللہ نظری منفرد نے کہا کہ حجت الاسلام والمسلمین سید نیاز نقوی تقریب مذاہب اور اسلامی وحدت کے لئے پیش پیش رہتے تھے حتی کہ پاکستان کے سنی اور شیعہ علماء میں بھی ایک خاص مقام حاصل تھا۔مرحوم علم و معرفت اور فضیلت سے بھرپور تھے کہ آپ اپنی بابرکت زندگی کے دوران سیدھے راستے پر گامزن رہے۔

وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق،وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر اور ایرانی سابق جج حجت الاسلام والمسلمین سید نیاز حسین نقوی کی پہلی برسی قم میں منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں ایرانی وزیر اطلاعات سید اسماعیل خطیب،جامعہ مدرسین قم کے سربراہ آیت اللہ حسینی بوشہری، ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ذوالنوری، حجۃ الاسلام والمسلمین سید باقر گلپایگانی، حجۃ الاسلا والمسلمین علوی بروجردی، محمدی عراقی،ہادوی تہرانی سمیت پاکستان سے حجۃ الاسلام والمسلمین سید فیاض نقوی، قم ہائی کورٹ کے سربراہ اور اراکین مراجع عظام صافی اور تبریزی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

آیت اللہ علی نظری منفرد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موت انسانی زندگی میں موجود ایک حقیقت ہے،خدا سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 57 میں فرماتا ہے:«کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَیْنَا تُرْجَعُونَ،ہر انسان نے موت کا مزہ چکھنا ہے،پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔

حوزہ علمیہ کے مایہ ناز خطیب نے کہا کہ احکامات الہی اور اسلامی میں سے ایک موت کی طرف توجہ کرنا ہے،امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:«و ذِکرَ المَوتِ و تِلاوَةَ القُرآنِ وَ الصَّلاةَ عَلَی النَّبِیِّ صلی الله علیه و آله، فَإِنَّ الصَّلاةَ عَلی رَسولِ اللّه ِ عَشرُ حَسَناتٍ، خدا اور موت کو کثرت سے یاد کیا کرو اور کثرت سے قرآن کی تلاوت کرو اور پیغمبر اسلام(ص)پر کثرت سے درود بھیجو،کیونکہ رسول خدا(ص) پر کثرت سے درود بھیجنے سے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بشریت کی پوری تاریخ میں بہت سارے ایسے لوگوں کی مثال ملتی ہے کہ ان میں کچھ لوگ موت سے خوفزدہ رہتے تھے اور کچھ لوگ رغبت سے موت کا استقبال کرتے تھے۔ابوذر سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا:کچھ لوگوں نے اپنی دنیا کو آباد کرنے کے بہانے سب کچھ کیا ہے وہ ایک برباد آخرت کو برداشت نہیں کر سکتے اور ایک آباد جگہ سے ایک غیر آباد جگہ کی طرف جانے کو پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے موت سے ڈرنے کی وجہ،موت اور قیامت پر یقین نہیں رکھنا ہے ،آخرت پر ایمان نہیں رکھتے،وہ اپنی حیات کو صرف اسی دنیا میں دیکھتے ہیں۔لیکن اگر کوئی خالص زندگی گزارتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن ہے اور موت کو قبول کرتا ہے تو اسے موت کا کوئی خوف نہیں ہوتااور وہ اس دودھ پینے والے بچے کی مانند جو اپنی ماں کے دودھ سے وابستہ ہے،یہ شخص بھی دار باقی کی طرف کوچ کرنے میں بے تاب رہتا ہے۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا کہ جنگ صفین میں حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام دشمنوں کی طرف سے تیروں کی بارش کے باوجود استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے محمد حنفیہ نے کہا بابا جان دشمن تیر باراں کر رہے ہیں احتیاط کیجے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا جان بابا موت نے ایک دن آنا ہے اور بلاشبہ موت کے مقررہ وقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی لہذا جس دن اور جس وقت بھی آئے مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔

آیت اللہ نظری نے قم میں مقیم پاکستانی اساتذہ،علماء اور غیر ایرانی طلباء کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا کہ جن لوگوں نے اپنی دنیا کو آخرت کا ذریعہ قرار دیا ہے انہوں نے اپنے معاملات میں کوشش، خدمت خلق اور تعلیم و تربیت پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے،آخرت کی ضروریات کو تیار کرتے ہیں اور موت سے نہیں ڈرتے ہیں۔مایہ ناز عالم دین میرزای بزرگ شیرازی سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی آخرت کے لئے کون سا اہم اور خاص کام کیا ہے،تو انہوں نے اطمینان سے کہا کہ میں یہی روزانہ کے کام کرتا ہوں،یعنی یہ ہے صراط مستقیم پر گامزن رہنا۔

انہوں نے اپنی تقریر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کے برخلاف دنیا میں کچھ لوگ سرگرداں ہیں،جیسا کہ خدا نے ان لوگوں کو مخاطب کر کے سورہ مومنون کی آیت نمبر 108 نازل کی ہے؛ «قَالَ اخْسَئُوا فِیهَا وَلَا تُکَلِّمُونِ،
(الله) فرمائے گا:دُور ہوجاوٴ جہنم میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو موت اور قیامت پر یقین نہیں رکھتے اور سب کچھ اسی دنیا کو سمجھتے ہیں۔

انہوں نے حضرت امام موسیٰ بن جعفر(ع)کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ آنحضرت فرماتے ہیں کہ قبرستان میں کثرت سے جایا کرو،مردوں کو دیکھو اور ان کے انجام کو درک کرو کیونکہ یہ عمل عبرت کا ذریعہ ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے اپنی تقریر کے دوران علامہ قاضی نیاز حسین نقوی کی بے نظیر شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ مرحوم پاکستان اور برصغیر کے حساس حالات میں دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور معارف کے فروغ دینے والوں میں سے ایک تھے اور اس حوالے سے آپ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

آیت اللہ نظری منفرد نے کہا کہ حجت الاسلام والمسلمین سید نیاز نقوی تقریب مذاہب اور اسلامی وحدت کے لئے پیش پیش رہتے تھے حتی کہ پاکستان کے سنی اور شیعہ علماء میں بھی ایک خاص مقام حاصل تھا۔مرحوم علم و معرفت اور فضیلت سے بھرپور تھے کہ آپ اپنی بابرکت زندگی کے دوران سیدھے راستے پر گامزن رہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=24094