زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
چودہویں صدی کے فلسفی اور مفکر استاد شہید مرتضیٰ مطہری کہ جنہوں نے ۱۳۲۵ ہجری شمسی میں قلم کاری کا کام شروع کیا اور پھر اسے اپنی زندگی کے آخر تک جاری رکھا ان کی کتابیں عام فہم، موضوعات میں تنوع ، وسعت اور معاشرے کی ضرورت کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے مختلف زبانوں میں مقبول واقع ہوئی ہیں
شہید مرتضی مطہری ایک پرنور ستارہ کی طرح طلوع ہوا اور دنیا کو اپنے نور سے روشن کرکے رخصت ہوا۔اس صدی میں اسلامی تحریک کے پرچمداروں میں سے ایک، جنہوں نے بچپن سے ہی اپنی فکر اور دل کو قرآن ونہج البلاغہ سے مانوس وسیراب کیا۔
صیہونیت، بطور ایک تحریک، ۱۸۰۰ کی دہائی کے آخر میں یہودیوں کو متحد کرنے کے لئیے تیار کی گئی اور نتیجتاً فلسطین کی جگہ زبردستی اسرائیل جیسی ایک غیر قانونی اور ناجائز ریاست تخلیق میں آئی؛
شہید مطہری جو علمی میدان میں علوم و معارف کا ایک خزانہ ہیں،اسی طرح اخلاقی میدان میں بھی وہ مہذب نفس کے ساتھ خودسازی، تعبد و بندگی کی روح اور دینی حدود کی پاسداری بھی رکھتے تھے۔
شہید مطہری مطہری کی شخصیت کی مانند آپ کے افکار بھی انتہائی عمیق اور جامع ہیں، ٓپ نے اسلامی معاشرہکی ضرورت کے پیش نظر اس وقت کے اہم مسائل کو اپنی تقریر وتحریر میں موضوع سخن قرار دیا
آپ کی نظر ظاہری کامیابی پر نہیں، بلکہ اللہ کی رضایت، اطاعتِ رسول اور دین کا تحفظ آپ کا مطمع نظر تھا۔آپ نے ا لہٰی وانسانی اقدار اور اصول کومدنظر رکھتے ہوئے زندگی کیا۔
ذہانت کے اپنے آداب ہوتے ہیں۔ اُن آداب کی کُنجی نظم و ضبط ہے۔ اُمور کو بروقت انجام دینے سے بہتر کوئی ذہانت نہیں ہوسکتی۔ حمایت کرنی ہو یا مخالفت، تنقید کرنی ہو یا تعریف، دوستی نبھانی ہو یا دشمنی، ہمیشہ بروقت اقدام کیجئے۔ وہ کسان ہی نہیں جو فصل کو اُس کے اپنے موسم میں کاشت نہیں کرتا۔ جو بیج وقت پر نہ بویا جائے، وہ شجرِ سایہ دار کیسے بنے گا۔
تاریخی حقائق کے مطابق اس جنگ میں یہ کامیابی مسلمانوں خصوصا حضرت علی اور حضرت حمزہ جیسے جانثاروں کی جرات وبہادری کانتیجہ تھی۔
کسی بھی معاشرہ کااستحکام آپس میں محبت اور الفت کے بغیر ممکن نہیں اور تعمیر معاشرہ،محبت و اخوت کے تصور سے ہی امکان پذیر ہوسکتا ہے۔