زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
پائیداری اور مزاحمت کی خصوصیت، یہ وہ چیز ہے جس نے امام کو ایک مکتب فکر کی شکل میں، ایک نظرئے کی حیثیت سے، ایک فکر کے طور پر، ایک راستے کے طور پر متعارف کرایا۔
پہلا سبب کامیابی کا پہلا سبب خدا کےلیے قیام کرنا ہے۔ امام رح نے زندگی بھر راہ خدا میں دین اسلام کے لیے قربانی دی اور کسی چیز سے ڈر اور خوف کی بجائے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتے رہے اور نتیجہ مکمل خدا پر چھورتے رہے۔
حضرت رضا(ع) مسجد نبوی میں فتوے دیتے تھے جبکہ آپؑ کی عمر مبارک بیس سال یا اس سے کچھ زیادہ نہیں تھی
اگر انقلابِ اسلامی کو دیکھا جائے تو انہی خواتین نے ایسا جہادی کردار ادا کیا جو کہ ناقابل فراموش ہیں۔۔ امام خمینی (رہ) ایرانی خواتین کی بہادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان خواتین کو ظالم کے خلاف آواز اُٹھانے کی طاقت حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے وجود مبارک سے ملی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اسلامی تحریک کی حمایت میں سڑکوں پر اتر کر دشمن کا مقابلہ کیا
شیخ محمد تستری( قاموس الرجال ) میں لکھتے ہیں کہ ان کی فضیلت و برتری نہ صرف بیٹیوں کے درمیان بلکہ بیٹوں میں بھی امام رضا ع کے علاوہ آپ ہی کو بے مثال اور نایاب سمجھتے ہیں۔
امام خمینی کی شخصیت میں بھی ایک خاص کشش تھی اور آپ کے نعروں میں بھی الگ کشش تھی، یہ کشش اتنی قوی تھی کہ مختلف عوامی طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان میدان عمل میں اتر پڑے۔ حالانکہ جدوجہد کے دور میں بھی اور انقلاب کی فتح کے بعد پہلے عشرے میں بھی نوجوانوں کے سامنے الگ الگ رجحانات، الگ الگ نظریات و افکار تھے۔
دنیا کا مال دنیا میں ہی رہ جائے گا مگر یہ کہ آخرت کیلئے سرمایہ کاری کی جائے
یہ صرف ایک ترانہ نہیں بلکہ اہل ایمان کو پورے عالم میں حجت خدا سے ملانے کا ایک نغمہ ہے۔ یہ ترانہ درحقیقت عالم انسانیت کو "بقية الله خير لكم" کے عقیدے طرف دعوت کا ایک منفرد اور دلچسپ انداز ہے
تیسری علامت:يماني کا خروج: حضرت امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کي حتمي علامات ميں سے ايک علامت يماني کا خروج ہے ۔ يماني ٬ يمن سے تعلق رکھنے والا ايک شخص ہے جو سفياني کے خروج کے ساتھ ہي قيام کرے گا اور لوگوں کو حق و عدالت کي طرف دعوت دے گا۔