غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
مئی 2006ء میں جب اسرائیل نے حزب الله کے ہاتھوں شکست کھائی اور اپنی یہودی ریاست کے خواب چکنا چور ہوتے دیکھے تو ویکی لیکس کے بانی جان اسنوڈن اور سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے اعترافات کے مطابق، امریکہ کے ساتھ مل کر حزب الله کے مقابل جو نام نہاد اسلامی حکومت مصر کے صحرائے سینا میں تشکیل دینی تھی، اس سے شام و عراق میں ایجاد کرنے کی ٹھان لی۔
مرحوم و مغفور حجۃ الاسلام آغا عباس علیہ الرحمہ نے ترویج دین میں جتنی زحمتیں اٹھائیں ان کی تفصیل اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں۔ البتہ ہم انتہائی مختصر انداز میں اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرحوم کا مختصر تعارف نامہ پیش کرنے کی سعی کریں گے
حضرت اسماعیل ؑکی وفات کے بعد ان کے فرزند " نابت " سرزمین مکہ کے رئیس مقرر ہوئے جبکہ " نابت " کی وفات کے بعد جرہیمان قبیلہ کو یہ بات ناگوار گزری کہ مکہ کی سرداری خاندانِ اسماعیل ؑ کے پاس رہے ،پس اسی بناء پر " نابت " کے بعد جرہیمان قبیلے نے حکومتی امور کو اپنے ہاتھوں لے لیا۔ اوراسی طرح پھر کئی سال گذرنے کے بعد " خزاعہ " نامی قبیلے نے (جو کہ جرہیمان کی طرح اس سرزمین پر کوئی کوچ کر کے آئے اور ساکن ہوئے ) حکومت کا دعویٰ کیا ۔
حمزہ باعث افتخار پیغمبر خدا ص: ایک دن رسول خدا صلی الله علیه و آله نے حضرت فاطمه علیهاالسلام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «شهیدنا أفضل الشهداء و هو عمّک وَ مِنّا مَنْ جَعَل اللّه لَهُ جِناحَین یطیرُ بِهِما مَعَ الملائکة وَ هُوَ ابنُ عَمِّکَ۔۔۔۔۔(4) ہمارا شہید جو سارے شہداء سے افضل ہے وہ آپ کے چچا حمزہ ہیں اور وہ شخصیت بھی ہم میں سے ہے جن کو خداوند دو پر عطا کرے گا اور ان کے ذریعے وہ فرشتوں کے ساتھ پرواز کرے گا وہ آپ کا چچا زاد بھائی(جعفر طیار) ہیں۔
یہاں ہم اختصار کے ساتھ رہبر معظم کی چند بصیرت سے لبریز اصطلاحات کو بیان کریں گے۔ یہ اصطلاحات تمام اسلامی دنیا کے ممالک ، عوام اور نوجوانوں کے علاوہ عالم انسانیت اور ہر مستضعف طبقے کے لٸے کافی مفید اور سودمند ہیں۔ بالخصوص عالم استکبار کی جولان گاہ بنے ہمارے ملک کے لٸے نہایت مفید ہے۔
اہل بیت پیغمبر سے خصوصی عشق نجف اشرف میں ہر جمعرات کو پیدل کربلا جانا، نجف میں طوفانی بارش میں بھی صبح و شام امیر المومنین کی زیارت، قم میں حضرت معصومہ کی زیارت اور چھٹیوں میں امام رضا کی زیارت کاموقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔
تاریخ گواہ ہے اور خفیہ ایجنسیوں کے سوالات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ لاپتہ شیعہ جوانوں کا سب سے بڑا جرم حسینی ہونا ہے
مطالعہ خود ایک فن ہے۔ ایک ایسا فن جو انسان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور بیدار صلاحیتوں کو جہت اور رُشد دینے کے کام آتا ہے۔ ہر طرح کا مطالعہ پیداواری صلاحیت نہیں رکھتا
حرمینِ شریفین سے مسلمانوں کا یہ عشق بلا وجہ نہیں ہے۔ اس عشق کی دلیل وہاں کے مقدس مقامات ہیں۔ مکے اور مدینے میں موجود حضور نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہﷺ کے پیارے اور جلیل القدر اصحابؓ کے تاریخی آثار اور ان کی نورانی قبور ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کو قلبِ اسلام بھی کہا جاتا ہے۔