غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
یاد رہے 2017 سے مرحوم علامہ شیخ حسن فخرالدین، علامہ سید عباس رضوی اور امام جمعہ سکردو علامہ شیخ حسن فخرالدین کی صوابدید پر شیخ ذاکر فخر الدین اس لائبریری کی مدیریت کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔
قرآن مجید نے بہت سی آیات میں ان معنی کی تکرار کی ہے اور ان میں توبہ کو اصلاح اور تلافی کے ساتھ قرار دیا ہے ۔
فی الحال الفجر یونیورسٹی کی بات کرتے ہیں۔ مذکورہ یونیورسٹی دراصل امام خمینیؓ ٹرسٹ رجسٹرڈ میانوالی کے زیرِ انتظام تعلیمی منصوبہ جات میں سے ایک منصوبہ ہے۔ علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی صاحب نے 1982ء میں ماڑی انڈس کے اندر جس دینی مدرسے کی بنیاد رکھی تھی، اب وہ رفاہی و فلاحی خدمات کے حوالے سے ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ آب رسانی، صحتِ عامہ، وحدتِ اسلامی، نادار اور مستحق افراد کی امداد، مفت تعلیم، مبلغین کی تربیت، مساجد و مدارس کی فعالیت اور آباد کاری نیز تعلیم و تربیت کے میدان میں اس ادارے نے اب تک انمٹ نقوش مرتب کئے ہیں۔
پاکستان میں تعلیمی ادارے بند ہونے کو ہیں۔ نوجوان جتنے خوش ہیں، اُن کے والدین اور اساتذہ اتنے ہی فکر مند۔ جون اور جولائی میں ان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ہمارے آج کے نوجوانوں کو نِت نئی ایجادات و اختراعات اور سوشل میڈیا سے الگ کرنا ممکن ہی نہیں۔
قوم پرستی کا نعرہ لگاکر ہماری جوانوں کو گمراہ کرکے 1400سال پہلے کے دورِ جاہلیت کی طرف لے جانے والوں کو ہر فورم پر سرکوب کرنا ہماری ثقافت ہے،
نظم، نظم اور نظم یہ امام خمینیؒ کی زندگی میں انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔ امام کے قریبی دوست ہو ،حکومتی عہدار یا انکے گھر والے سب اپنی گھڑیوں کو امامؒ کے کام کے مطابق ایڈجسٹ کیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پرجب امامؒ کو صحن میں چلتے ہوئے دیکھتے تو اُنہیں ایک مقررہ وقت معلوم ہوتا تھا۔
مستضعفین جہاں کی حمایت: حضرت امام انقلاب کا مقصد مستضعفین جہاں کی حمایت قرار دیتے ہیں: ہمیں دنیا کے مستضعفین کی حمایت کرنا ہے،ہمیں انقلاب کو دنیا میں برآمد کرنے کے لیے کوشش کرنا چاہیے اور یہ فکر چھوڑ دیں کہ ہمیں اپنا انقلا پوری دنیام میں نہیں پہنچانا ہے،کیونکہ اسلام مسلمان ممالک کے بیچ فرق کا قائل نہیں ہے اور وہ پوری دنیا کے مستضعفین کاحامی وہمدرد ہے۔ (اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ ،امام خمینی،۱۴۲۹ھ:۴۸۵)
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے مکتب فکر میں سب سے پہلی چیز جو موجود نظر آتی ہے وہ 'خالص محمدی اسلام' پر تاکید اور امریکی اسلام کی نفی ہے۔ امام خمینی نے خالص اسلام کو امریکی اسلام کی ضد قرار دیا ہے۔
پائیداری اور مزاحمت کی خصوصیت، یہ وہ چیز ہے جس نے امام کو ایک مکتب فکر کی شکل میں، ایک نظرئے کی حیثیت سے، ایک فکر کے طور پر، ایک راستے کے طور پر متعارف کرایا۔