غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
جیسے ہم نے تمہارے درمیان خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں پاکیزہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔”
انسانوں کی دنیا اور آخرت نابود ہورہی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مبعوث ہوئے لوگوں کی دنیا با مقصد ہوئی اور مادی قدریں الہی قدروں میں بدل گئیں۔ خرافہ پرستی اور توہم پرستی نے اپنی جگہ حقیقت کی تلاش کو دی گو کہ بعض لوگ آج تک حقیقت کی تلاش کو گمراہی کا سبب سمجھتے ہیں اور لکیر کی فقیری کو سنت حسنہ سمجھتے ہیں.
اگر ہم اپنے اخلاق کی معصومین(علیہم السلام) کی طرح بنانے کی کوشش کریں تو ہمیں اپنی زبان سے کچھ کہنے کی ضروری نہیں پڑےگی بلکہ لوگ ہمارے کردار کو دیکھ کر خود با خود اپنے آپ کو صحیح راستہ پر گامزن رکھنے کی کوشش کرین گے۔
خاندان عصمت وطہارت کی آغوش میں پرورش پانےوالی صدیقہ کبریٰ حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا اورثانی زہراءحضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیھا کی زندگی اورشخصیت میں جہاں کئی جہات سےمشترکات ہیں وہاں آپ دونوں کےخطبات میں فکری اوراسلوبیاتی سطح پرکئی حوالوں سےمماثلتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
دنیا میں انقلابی تحریکوں کا وجود کوئی نیا نہیں۔انقلابی تحریکیں جنم لیتی اور دم توڑتی رہتی ہیں۔ ان میں سے بعض انقلاب برپا کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں۔ ایران کا اسلامی انقلاب بھی ان کامیاب ہونے والی تحریکوں میں سے ایک ہے۔ پہلے دن سے ہی دشمن اسے کچلنے میں مصرف ہے۔ دشمن کی کوششوں میں سے سرفہرست صدام کی ایران پر مسلط کردہ جنگ ہے۔صدام نے بغداد میں ڈنر اور صبح کا ناشتہ تہران میں کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
جس وقت عباسیوں نے مامون عباسی پر اپنی بیٹی کی شادی، امام محمدتقی علیہ السلام سے کرنے کے متعلق اعتراض کیا کہ یہ نوجوان ہیں اور علم و دانش سے بہرہ مند نہیں ہیں جس کی وجہ سے مامون نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ خود ان کا امتحان لے لو۔ عباسیوں نے علماء اور دانشمندوں کے درمیان سے "یحییٰ بن اکثم”کو اس کی علمی شہرت کی وجہ سے چنا، مامون نے امام جواد علیہ السلا م کے علم و آگہی کو پرکھنے اور جانچنے کے لئے ایک جلسہ ترتیب دیا۔ اس جلسہ میں یحییٰ نے مامون کی طرف رخ کر کے کہا: اجازت ہے کہ میں اس نوجوان سے کچھ سوال کروں؟۔ مامون نے کہا : خود ان سے اجازت لو ۔ یحییٰ نے امام محمدتقی علیہ السلا م سے اجازت لی۔ امام علیہ السلا م نے فرمایا: یحیی! تم جو پوچھنا چاہو پوچھ لو ۔
نویں امام ع کی امامت کے دوران بھی کچھ نظریاتی انحرافات تھے جن کی جڑیں سابقہ ادوار میں موجود تھیں لیکن آپ ع نے مختلف موقعوں پر ان انحرافات کا مقابلہ کیا اور اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے صحیح رائے کا اظہار کیا اور لوگوں کو باطل عقائد سے روکا
شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔ مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔
اسلام ایک جامع دین ہے، جس میں بشر کی مادی اور معنوی تمام ضروریات کی تکمیل کی صلاحیت پائی جاتی ہے- یہ اور بات ہے کہ اسلامی تعلیمات کے اجتماعی پہلو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے آج کرہ ارض کے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔البتہ اس اہم نکتے سے کم وبیش اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے محققین اور دانشوران آگاہ تھے.