05آوریل
رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای ” دام ظلہ ” کی مختصر سوانح حیات

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای ” دام ظلہ ” کی مختصر سوانح حیات

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے

12دسامبر
تری قربت کے لمحے پھول جیسے

تری قربت کے لمحے پھول جیسے

حجۃ الاسلام شیخ محمد علی صابریؒ کا تعلق اگرچہ تھماچو تسرسے تھا؛ لیکن ان سے ہماری پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی۔ایک وقت وہ تھا کہ کراچی میں رہنے والے ہمارے علاقے کے اکثرطلباء مختلف مناسبتوں سے ان کے ہاں جاتے ، اور ان سے درس اخلاق کی درخواست کرتے تھے۔ سب انہیں ”آغا صابری“ کہتے تھے، سو ہم نےبھی ”آغا صابری“ کے درس میں شرکت کی ، اور وہی ہماری پہلی ملاقات تھی۔

12دسامبر
شوق ِ تعلّم سے عالم پروری تک کا سفر-حجۃ الاسلام شیخ محمد علی صابری کی سرگذشت

شوق ِ تعلّم سے عالم پروری تک کا سفر-حجۃ الاسلام شیخ محمد علی صابری کی سرگذشت

کراچی میں تین سال کی دن رات محنت و مزدوری کی تھکاوٹ اور خستگی تو نجف کے گنبدِ طلائی پر پہلی نگاہ میں ہی اتر گئی۔ لیکن علوم ِ دینی کی پیاس نے ابھی تک ان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا تھا۔ لہذا باقاعدہ طور پر نجف کے علمی سمندر کی گہرائی میں غوطہ زن ماہرین کے محضر میں زانوئے تلمذ تہہ کیا اور علوم دینی کا باقاعدہ حصول شروع ہوگیا۔ باب العلم کی بارگاہ میں دس سال کی حاضری میں سب سے زیادہ جن شخصیات نے آپ کو متاثر کیا وہ فیلسوف کبیر آیت اللہ شہید محمد باقر الصدرؒ اور بت شکن زمان رہبر کبیر حضرت امام خمینی ؒ تھے۔

09دسامبر
قرآن اور میڈیا

قرآن اور میڈیا

قرآن ایک کامل کتاب ہے اس میں ہر چیز کا ذکر ہے ۔اس میں خدا وند متعال نے ہر کسی کی ذمہ داریاں بھی وضاحت کے ساتھ بیان کی ہین اور تمام چیزوں کا تعارف بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیاہے۔قرآن کا اپنا ضابطہ حیات ہے ،یہ انسانی معاشرتی زندگی کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اسی لیے اس کو سماجی دین بھی کہا جاتا ہے ۔قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوے محسوس ہےا کہ بعض آیات میڈیا کے استعمال کے حوالے سے رہنمائی کرتی ہیں ۔

08دسامبر
اولاد کو نماز کی تعلیم وتربیت دینے کا شرعی حکم، (قسط1)

اولاد کو نماز کی تعلیم وتربیت دینے کا شرعی حکم، (قسط1)

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔انسان کی خلقت کا مقصد معرفت اورقرب خداوندی حاصل کرنا ہے۔ اسلام تعلیم و تربیت پر زیادہ تاکید کرتاہے اسی لئے خداوند متعال نے انسان کی تربیت کا بندوبست انسان کی تخلیق سے پہلے فراہم کیا

08دسامبر
پریانتھا دیاودھنہ کے قتل کے پس پردہ حقائق

پریانتھا دیاودھنہ کے قتل کے پس پردہ حقائق

اگر بات کی جائے پریانتھا دیاودھنہ کی مذہبی رجحانات کی تو وہ بدھ مت مذہب سے تعلق رکھتے تھے مسلمانوں کے تمام مذہبی تہواروں کا احترام کرتے تھے۔بدھ مت اور اسلام کے تقابل میں ان کا موقف تھا کہ اسلام اور بدھ مت میں پانچ احکام مشترک ہیں.

06دسامبر
علامہ حسین بخش جاڑا ۔آسمان ِ علم کا درخشاں ستارہ

علامہ حسین بخش جاڑا ۔آسمان ِ علم کا درخشاں ستارہ

ستر سال کی مختصر زندگی میں مرحوم نے مکتب ِ تشیع کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں۔مقامی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام کے لیے انہوں نے تبلیغی و علمی میدان اور سماجی و فلاحی میدان میں بہت لازوال خدمات انجام دیں۔ جن کے آثار آج تک موجود اور باقی ہیں۔

05دسامبر
اسلوب ِتبلیغ قرآن مجید کی روشنی میں

اسلوب ِتبلیغ قرآن مجید کی روشنی میں

قرآن مجید میں ہر سورے کی ابتدا بسم اللہ سے ہوئی ہے اورقرآن میں بہت سے موارد بیان ہوا ہے کہ انبیاء ؑ اپنے کام کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے ۔ لہذا ہر کام کو بسم اللہ سے شروع کرنا سنت الہٰی اور سنت انبیاءؑ ہے ۔ روایات میں بسم اللہ کے بغیر کسی بھی کام کو انجام دینے سے مذمت کی گئی ہے ۔جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی ہے ؛” کلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَمْ یُبْدَأْ بِبِسْمِ اللّٰہِ فَھُوَ اَبْتَر " یعنی ہر وہ اہم کام جسے اللہ کے نام سے شروع نہ کیا جائے اپنے مطلوبہ انجام تک نہیں پہنچتا۔

05دسامبر
دینی علوم کا ماحصل

دینی علوم کا ماحصل

ہر وہ شخص جومذہبی علوم سے واقف ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ تمام علوم دینی کی برگشت اور ان کا جو ہر تین چیزیں ہیں ۔(۱) عقائد (۲) اعمال (۳) اخلاقیات کوئی شخص کما حقہ دیندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان تین امورکو بقدر ضرورت نہ سمجھےاور ان کا علم حاصل کرنے کے بعد ان پر عمل نہ کرے۔

04دسامبر
مجالس و محافل کے انعقاد کا مقصد، محسن ملت کی نگاہ میں

مجالس و محافل کے انعقاد کا مقصد، محسن ملت کی نگاہ میں

اگرچہ تبلیغ دین کے ذرائع میں تألیف و تصنیف بھی ایک عمدہ ذریعہ ہے لیکن اس مادی دور میں جب لوگ دین کی طرف خاص رجحان نہیں رکھتے وہ مذہبی کتب کے پڑھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے اور پھر سب لوگ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے ۔ لہٰذا جتنی افادیت مجالس و محافل سے ہوسکتی ہے وہ کتب و رسائل سے ممکن نہیں۔