غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
حجت الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محسن علی نجفی صاحب نے ملک خدا داد پاکستان کی مختلف جگہوں پر کثیر تعداد میں دینی مدارس، مروجہ علوم کے لیے سکولز اور کالجز کی بنیاد رکھی ساتھ ہی ساتھ نادار اور یتیموں کی کفالت اور سرپرستی کے لیے بہت سے عام المنفعت فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی۔ ان اداروں میں مسلکی اور مذہبی امتیازات سے بالا تر ہوکر تمام مستحق افراد کے لیے خدمات میسر ہوتی ہیں۔
کوٹ ادو میں ہر روزایک پارہ قرآن پاک کا زبانی پڑھتا تھا جیسے ہمارے اہلسنت پڑھتے ہیں اور ان کی تراویح ختم ہوجاتی اور ہم اس پورے پارے کے ترجمہ کا خلاصہ بتاتے تھے کہ کیا ہے
ویکسی نیشن نہ کرانے والے افراد میں خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ساڑھے 4 گنا زائد ہے
امام سجاد(علیهالسلام) نے انسانوں کو جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکالنے اور امامت و ہدایت کے اعلی اہداف کے حصول کے لیے ایک بہترین حکمت عملی کا انتخاب کیا اور وہ ہے دعا اور مناجات۔
ايک ايسا فرد کہ جو انسانوں کا رہبر اور ہادي ہو اور لوگ کمال کي طرف سفر کے لئے اس کے دامن سے وابستہ ہوں وہ غائب ہوجائے تو يہ ايک ايسي چيز ہے کہ جو ايک عام رہنما اور عادي انسان کي روش کے خلاف ہے۔ لہذا اسے بعيد سمجھتے ہوئے انکار کرديا جائے گا ليکن گزشتہ بعض پيغمبروں عليھم السلام غيبت کا تحقق اور تاريخ پڑھنے سے امام مہدي عليہ السلام کي غيبت کے مسئلہ کہ آساني اور صحيح طريقہ سے سمجھا اور قبول کيا جاسکتاہے
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے چھ برس پہلے کی بات ہے کہ عظیم تاریخی شہر ملتان کے مغرب میں واقع بستی شیعہ میانی کے مومنین نے اپنے مرشد کامل، عالم ربانی، یکتائے روز، پیکر زہد و تقوی، سید العلماء حضرت علامہ سید محمد باقر نقوی کی خدمت عالیہ میں درخواست کی کہ انہیں ایک عالم دین کی اشد ضرورت ہے جبکہ آپ کے شاگرد رشید مولانا گلاب علی شاہ نقوی البخاری اعلی اللہ مقامہ امتحان سے فارغ ہوچکے تھے اور اپنے عظیم و مہربان اور شفیق استاد کے حکم پر ملتان کی اس پسماندہ لیکن اخلاص ے پر بستی میں تشریف لائے۔
آج مفتی جعفر حسین ؒ کی برسی کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں قومی معاملات، اجتماعی حالات، ملکی مفادات اور ناصبیت کے مقابلے کیلئے متحد ہونے کی یاد دالاتا ہے۔
کربلا کی داستان قربانیوں کی داستان ہے۔ اپنی ذات کے لیے قربانی نہیں۔ اپنے مفادات کے لیے قربانی نہیں۔ کسی قسم کی شہرت کے لیے قربانی نہیں۔
علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین ع کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں