جامعہ کراچی میں سالانہ عظیم الشان “یومِ حسینؑ” کا انعقاد/امام حسینؑ کی تعلیمات اتحادِ امت اور کردار سازی کی ضامن، مقررین
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین ع کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں
مدینہ سے روانگی سے قبل اپنے بھائی جناب محمد بن حنفیہ کے نام خط میں لکھا ” میں فتنہ و فساد برپا کرنے یا اپنی شہرت کے لئے نہیںبلکہ اپنے جد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے امور کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں۔میں نے نیکیوں کاحکم دینے،برائیوں سے روکنے اور اپنے جد بزرگوار اور والد علی ابن ابی طالب کی سیرت کی پیروی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔۔۔۔“
خدا نے ہمیں مکتب حسینی کے نام سے ایک معلم اخلاق عطا کیا ہے۔آپ(ع) نے جب مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو اسی وقت سمجھا دیا کہ میرا قیام شہادت کے لئے ہے۔میری شہادت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ہے ، میری شہادت اس لئے ہے کیونکہ دین اسلام خطرے میں پڑ گیا ہے اور میں تیار ہو گیا ہوں تاکہ دین اسلام کو نجات دوں لہذا اس سلسلے میں دین اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردوں گا اور فرماتے تھے کہ«أَلَا تَرَوْنَ أَنَ الْحَقَ لَا یُعْمَلُ بِهِ وَأَنَّ الْبَاطِلَ لَا یُتَنَاهَی عَنْهُ لِیَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِی لِقَاءِ اللَّهِ مُحِقّا» [2]
اس بات میں توکسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ اس ملک کے شہری کی حیثیت سے عزاداری نہ صرف ہماراقانونی حق ہے بلکہ دینی حوالےسے ایک مکمل شرعی فریضہ ہےجس سے کوتاہی کسی طور بھی برتی نہیں جاسکتی ۔
میرا پسندیدہ مضمون حفظ قرآن کے بعد قرآن مجید رہا ہے اور تفسیر وغیرہ لیکن زیدہ تر منطق اور فلسفہ کو میں کافی محبت سے پڑھا کرتا تھا
محرم ظالم کی پسپائی اور مظلوم کی سرخروئی کا مہنیہ ہے۔ محرم حق کی فتح اور باطل کی نابودی کا مہینہ ہے۔ محرم یزیدی ناپاک عزائم خاک میں ملنے اور مشن حسینی قیامت تک محفوظ ہونے کا مہینہ ہے
واقعۂ عاشورا کے بعد ہماری پوری تاریخ میں، شاید ہی کوئی ایسی تحریک، قیام یا خونین واقعہ تلاش کیا جا سکے جو انسانی اہداف و مقاصد اور آرمانوں کی تکمیل کے لیے برپا ہوا ہو اور اُس نے واقعۂ عاشورا کو اپنے لیے آئیڈیل اور نمونۂ عمل قرار نہ دیا ہو۔
شیعہ کے تمام فقہاء و مجتہدین نے شہادت ثالثہ کو تشہد میں پڑھنے سے منع فرمایا ہےاور اپنے رسائل عملیہ توضیحات مسائل میں قطعی طور پر اسے درج نہیں کیا۔ اس سلسلے میں ہر مقلد کو چاہیے کہ وہ ذرہ بھر چوں و چرا کے بغیر اپنے مرجع کی توضیح المسائل پر عمل کرے ۔
زمخشری اس حوالے سے تفسیر کشاف میں رقمطراز ہیں کہ واقعہ مباہلہ اور یہ آیہ مجیدہ اصحاب کساء کی فضیلت کے سب سے بڑے گواہ اور اسلام کی حقانیت کی زندہ مثال ہے۔(تفسیر کشاف، ج1، ص433)