غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
علامہ سید ساجدعلی نقوی،آیت اللہ حافظ ریاض نجفی،مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی نے ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے قرآن کے حوالے سے مکتب اہل بیت کانظریہ بیان فرمایا ہے۔ جوکہ بروقت اقدام ومستحسن عمل ہے۔
میری یہ خواہش تھی کہ امام جب پیرس میں پہنچ گئے تھے ایک وفد پاکستانی علماء کی طرف سے ان کی طرف بھیجیں اور ان کو جاکر کہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ایک آدمی بھی تیار نہیں ہوا
میں سمجھتا ہوں کہ خواہش کرنا کسی اچھے منصب کی کوئی بری بات نہیں ہے البتہ اگر کوئی کسی منصب کا اہل نہیں ہے اس کا اپنے اندر استعداد پیدا کئے بغیر اس کے حصول کے لئے غلط طریقے انتخاب کرنا یہ اچھا نہیں ہے ۔
یہ کتاب نہ فقط الٰہی تعلیمات کا خزینہ و تاریخ کا زندہ و تازہ مظہر ہے بلکہ تاریخِ ادب میں بھی ادبی کتابوں کے ماتھے کا جھمر و ادبی شاہکار کی حیثیت کا حامل ہے۔
پاک ہے وہ ذات کہ جس نے انسان کو تمام مخلوقات پر فوقیت دی اور انسان کو اپنی بندگی کیلئے خلق فرمایا۔درود و سلام ہو محمدؐ و آل محمدؐ پر کہ جن کو اللہ نے ہر قسم کے رجس و ناپاکی سے دور کیا۔ہم اس بات پر اللہ کے بہت شکر گزار ہیں کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالی نے محمدؐ و آل محمدؐ کی محبت رکھی اور اس راستے پر چلنے کی توفیق دی کہ جس پر چلنے والوں کیلئے اللہ کی طرف سے نعمتیں ہیں۔ اللہ تعالی سے ارتباط کا ایک بہترین ذریعہ دعا ہے،اور اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں انسان کو اس بات کی طرف خصوصی طور پر متوجہ کیا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ ہر حالت میں دعا کے ذریعے سے اپنے رب سے متمسک رہے.
کسی مکتب فکر کی کتب میں روایات کا موجود ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ مکتب فکر ان روایات کے مطابق نظریہ قائم کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک مکتب فکر کے علمائے سلف نے ایک نظریہ قائم کیا ہو، لیکن بعدکے علماء اس نظریے پر قائم نہ رہے ہوں۔ اس صورت میں انصاف و دیانت کا تقاضا، کیا یہ ہے کہ اس مکتب فکر کو ان کے علمائے سلف کے نظریے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے یا موجودہ موقف کو قبول کیا جائے؟
آپ کا اسم گرامی فاطمہ ہے ، آپ کا مشہور لقب معصومہ ہے ،آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرعلیہماالسلام اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے ہیں ۔
امام علی علیہ السلام کی فضائل کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہونے والی احادیث میں سے ایک حدیث جو مختلف طریقوں سے داخل ہوئی ہے اور شیعہ و سنی منابع میں نقل ہوئی ہے۔یہ روایت ہے:(حُبُّ عَلِیٍّ حَسَنَةٌ لَا یَضُرُّ مَعَهَا سَیِّئَةٌ وَبُغْضُ عَلِیٍّ سَیِّئَةٌ لَا یَنْفَعُ مَعَهَا حَسَنَة
علماء فریقین کی اکثریت کااتفاق ہے کہ آپ بتاریخ ۱۰/ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری یوم جمعہ بوقت صبح بطن جناب حدیثہ خاتون سے بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں ملاحظہ ہوشواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصارص ۱۱۰ ، جلاء العیون ص ۲۹۵ ، ارشادمفید ص ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ ص ۱۶۳ ۔آپ کی ولادت کے بعد حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت محمدمصطفی صلعم کے رکھے ہوئے ”نام حسن بن علی“ سے موسوم کیا (ینابع المودة)۔