زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
مجھے فرقہ پرستی والی سوچ، جو اکثریت پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اسکے اقدامات سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ شیعہ کمیونٹی سرے سے الگ نصاب تعلیم کا مطالبہ نہ کر دے اور پہلے کی طرح الگ اسلامیات کی تحریک شروع نہ ہو جائے۔
جب ایک شخص الٰہی دستور کو قبول کرتے ہوئے اسلام قبول کرتا ہے اورایمان کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس پر کچھ دینی ذمہ داریاں بھی عائد ہو جاتی ہیں۔یعنی اسلام اور ایمان محض زبان سے کلمہ شہادت ادا کرنے کا نام نہیں اور نہ ہی فقط دل میں خود کو مومن سمجھ لینے سے ذمہ داری ادا ہوتی ہے بلکہ ایمان کے عملی تقاضے پورے کرکے اپنے عمل کے ذریعے اپنے عقیدے و ایمان کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
حضرت سیدہ زھراء سلام اللہ علیہا ان عورتوں میں سے ایک ہے جن کو کائنات کی تمام عورتوں کے لیے سردار قرار دیا گیا ہیں ۔سیدہ سلام اللہ ایسی شخصیت کی مالکہ تھیں کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی نظام الہی کے تحفظ کے خاطر قربان کردی۔جو رحمت اللعالمین کے لیے رحمت بن کر آئی ۔آپ سلام اللہ علیہا نے اسی ہستیوں کی تربیت کی جو سردار جوانان جنت قرار پائے ۔
دور حاضر کی دنیا میں مغربی دنیا کی حکومتوں کے پاس صرف اور صرف ایک ہی طریقہ واردات باقی ہے کہ جب بھی یورپ اور مغرب میں کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو اس کو مدعا بناتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر دی جاتی ہے
اب یہ نہ سمجھئے گا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صرف مسیحی برادری یا شیعہ حضرات تختہ مشق بنے ہوئے ہیں بلکہ آپ ڈیرہ اسماعیل خان کی چھوٹی موٹی خبروں پر نگاہ رکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں سُنّی، شیعہ، مسیحی، وغیرہ کوئی بھی انسان محفوظ نہیں، اگر محفوظ ہے تو صرف اور صرف نامعلوم محفوظ ہے۔
اگر ایک عورت اپنے آپکو اسلام کے صحیح نورانی سانچے میں ڈھال لے تو پورا معاشرہ گلستان کا منظر پیش کریگا۔ ایک عورت کی صحیح تربیت تین خاندانوں کی اعلیٰ تربیت کی ضامن ہے۔
یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خواتین کے لئے اسلامی لباس کا پہننا دین اسلام کی ضروریات میں سے ہے اور اس بارے میں متعدد آیات بھی موجود ہیں۔
جب امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) اپنے لئے فرمارہے ہیں کہ حضرت زہرا(سلام اللہ علیھا) کی ذات ان کے لئے نمونۂ عمل ہے تو ہمارے لئے بدرجہ اولی ان کی سیرت پر عمل کرنا ضروری ہے، اسی مقصد کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس مضمون میں حضرت زہرا(سلام اللہ علیھا) کی قناعت کے ایک گوشہ کو بیان کیا جارہا ہے تاکہ آپ کی قناعت کو دیکھ کر ہم بھی اپنی زندگی میں اسے اپنائیں۔