زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























زائرینِ حسینی، طاقت اور استحکام، خون کا بدلہ دشمنوں سے، خوفناک انجام ثابت، کتائب سید الشہداء،
ہر سال محرم الحرام اورحضرت امام حسین(ع) کی سوگواری اور عزاداری کے ایّام میں عزاداروں کی کثیر تعداد حرم امام رضا علیہ السلام میں حاضر ہوتی ہے تاکہ شہدائے کربلا کے سوگ میں منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں شریک ہو کر اہلبیت(ع) سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کر سکیں۔
گزشتہ روز ملایشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ظہر کی باجماعت نماز اور عاشورہ حسینی کی مناسبت سے مجلس و ماتم داری کا انعقاد کیا گیا جس میں ملائشیا میں مقیم ایرانی عزاداروں اور فارسی زبان بولنے والوں نے شرکت کی۔
انہوں نے اس دہشت گردانہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء اور مومنین کے اہل خانہ سے تعزیت پیش کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی اور عمان کے امن و سلامتی اور استحکام کی دعا کی۔
اسلامک اسکالر محترمہ خانم مرضیہ بتول نے اس پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کےقیام کے اہم ترین اہداف و مقاصد میں سے ایک خداوندمتعال کی رضایت کا حصول تھا۔
زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا تاریخ کی ایک شاندار مثال ہیں جو تاریخ کے اہم ترین مسائل میں ایک عورت کی عظیم موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عاشوراء کہ دن واقعہ کربلا میں خون کی جیت تلوار پر ہوئی (جو واقعی جیت ہوئی) لیکن اس فتح کی وجہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا تھیں۔ ورنہ کربلا میں خون تمام ہو جاتا۔
حوزہ کی مدرسہ خانم محمدلو نے کہا کہ ظلم اور غاصبیت کا مقابلہ کرنا امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مقاصد میں سے ایک تھا۔
تہران کے حسینیۂ امام خمینی میں مجالس عزا کا یہ سلسلہ 12 محرم تک جاری رہے گا۔
حضرت علی اکبر ؑ امام عالی مقام کے محبوب ترین فرزند تھے اس محبوبیت کی وجہ یہ تھی کہ حضرت علی اکبرؑ شکل و صورت رفتار اور گفتار میں پیغمبر اکرم ؐ کے مشابہ تھے
حرم امام رضا علیہ السلام کے ادارہ غیرملکی زائرین کے تعاون سے حرم امام رضا علیہ السلام کے رواق غدیر میں حضرت امام حسین […]