مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
امام حسین علیہ السلام کو خدا کی جانب سے تین عظمتیں ملی ہیں پہلی یہ کہ آپ کے گنبد کے نیچے دعا قبول ہوتی ہے ، دوسری آپ کی تربت خاکِ شِفا ہے اور تیسری آپ کی اولاد میں سے نو افراد کو خدا نے امامت کے لئے چنا
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مختلف شخصیات و وفو د سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ محرم الحرام میں پیغام حسینی ؑ کو عام کریں ، اتحاد و حدت کی فضا کو برقرار رکھیں او ر کسی کو معاشرے میں تقسیم یا تفریق پیدا کرنے کی اجازت نہ دیں پاکستان میں باہمی احترام ،بھائی چارے اور تمام مذاہب و مکاتب کے مقدسات کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عزاداری سید شہداءمنائیں اور امام عالی مقام کے فرامین و سیرت ،فضائل و مصائب اور اسلام کے آفاقی پیغام کو احسن انداز میں عوام الناس تک پہنچائیں ۔
حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کے کلام میں دنیا پرستی کو بار بار حرام قرار دیا گیا ہے اور انسان کو دنیاوی امور میں مشغول نہیں ہونا چاہئے اور اس کا مطلب سستی اور کاہلی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دنیا کا اسیر نہ کر لے۔
حسینیۂ امام خمینی میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی پہلی شب کی مجلس برپا ہوئی جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای شریک ہوئے۔
۔قائد شہیدکی 34 ویں برسی کے موقع پر علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف الحسینی کی شخصیت انتہاپسندی‘ شدت پسندی اور جنونیت جیسے سنگین مسائل کے خلاف توانا آواز تھی ۔ اُن مسائل کے حل کے لئے علامہ حسینی نے اتحاد و وحدت اور صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا تھا کیونکہ حکمت و اتحاد امت قرآنی و نبوی فریضہ ہے جس پرہم مسلسل عمل پیرا ہیں۔
علامہ امین شہیدی نے قرآن کو کتابِ ہدایت و انسان سازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسان کو گمراہی سے نکال کر بلندی اور عظمت کے اعلی ترین مقام پر پہنچانے والی کتاب ہے۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے عقیدہ امامت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولا علی علیہ السلام باب مدینتہ العلم ہیں جو بھی تحصیل علم کا طالب ہے اسے اسی دروازے پر آنا پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ بابائے قوم محمد علی جناح نے دنیا پر دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا، ہندوستان کا کشمیر پر قبضہ ناجائز اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن افسوس حقوق بشریت کےلئے صدائے احتجاج بلند کرنیوالوں اور آسمان سرپر اٹھانے والوں کی زبانیں معلوم نہیں کیوں بھارت کےخلاف گنگ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں دو گروہ موجود ہیں؛ ایک وہ جو امامؑ کو نہیں مانتے لیکن ایک گروہ وہ ہے جو امامؑ کو تو مانتے ہیں، لیکن امامؑ کے نظریے کو قبول نہیں کرتے. دوسرے گروہ کی تشخیص کے لئے چشم بصیرت کی ضرورت ہے۔