رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
انہوں نے مزید کہا کہ بنی امیہ نے بہت ساری احادیث اپنی حمایت میں جعل کیئے اور احادیث کو اپنی حکومت بچانے کے لئے استعمال کیا جیسا کہ معروف ہے کہ "حکومت کے خلاف اٹھنا یعنی دین کے خلاف اٹھنا" اور دین کے خلاف بات کرنے سے انسان واقعا ڈر جاتے ہیں اور مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی امیہ نے مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے حکومت کی۔
علامہ علی رضا رضوی کا کہنا تھا پیغمبرِ اسلام اور ان کی مطہر آل علیہم السلام نے انسان کو حقیقی انسان اور پھر مسلمان بنانے کے لئے بے شمار مشقتیں برداشت کیں تاکہ ایک حقیقی مسلمان انسان خدا کی بندگی اس طریقے پر انجام دے سکے
انکا مزید کہنا تھا کہ کربلا رہتی دنیا تک ایک آفاقی تحریک ہے لوگوں کو اگر جینا ہے تو ان سے جڑ جائیں جو مرے نہیں ہیں جبکہ پاکستان سمیت ساری دنیا میں کربلا والوں کی یاد میں یہ بڑے بڑے اجتماعات ان کی حیات ابدی کا منہ بولتا ثبوت ہیں
علامہ امین شہیدی نے پہلی وحی کو تربیتِ انسانی کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ لفظ "اقراء" جہل سے علم تک کا سفر ہے۔ پہلی وحی بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے ذریعہ انسانی معاشرہ رفتہ رفتہ تاریکی سے روشنی اور نادانی سے دانائی کی طرف بڑھے گا۔
علامہ ساجد نقوی کے مطابق امام حسین ؑکی جدوجہد اور واقعہ کربلا سے الہام لینے اور استفادہ کرنے کا سلسلہ61 ھجری سے آج تک جاری وساری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ دنیا میں حریت پسندی کی ہر تحریک کربلا کی مرہون منت نظر آتی ہے اور دنیا کی تمام حریت پسند تحریکیں امام حسین ؑ کی شخصیت سے متاثر نظر آتی ہیں۔
پاک محرم ایوسی ایشن کے زیرِ اہتمام نشترپارک میں مرکزی عشرہ محرم الحرام ۱۴۴۴ھ کی دوسری مجلس عزا سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے عقیدہ امامت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئمہ اہلبیت علیہ السلام نے اپنے اقوال و فرامین کی صورت میں بنی نوع انسان کے لئے اعلی ترین کلیہ قاعدہ اور قانون فراہم کیا ہے
انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے اس لئے قیام کیا کہ درحقیت دین مبین اسلام کا وجود خطرے میں تھا.
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو مذہبی اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تشیع کی اپنی قیادت موجود ہے جو انتہائی ذمہ داری سے اپنے فرائض اداءکر رہی ہے۔ انہوں نے محرم الحرام میں تعلیمات محمد و آل محمد کے تحت فلسفہ و مقصد کربلا کو پیش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یاد رہے ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ کے مطابق، ایران میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں 56 افراد جاں بحق اور 18 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔گزشتہ ہفتے سے اب تک ملک کے 21 صوبوں میں سیلاب آیا ہے اور کل رات سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے لرستان، چہارمحل اور بختیاری، اصفہان، یزد اور تہران تھے۔