دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) کی 32 ویں برسی کے موقع پر ٹیلی ویژن سے اپنے براہ راست خطاب میں فرمایا کہ آج پورا ایران امام خمینی (رح) جیسی عظیم شخصیت کی یاد میں سوگوار و عزادار ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امام خمینی (رح) کا ارادہ مضبوط اور مستحکم تھا اور خرد مند اور دور اندیش تھے۔
امام خمینی ؒ کی عظیم شخصیت نے جہاں ایران کی عوام کو قدیم زمانے سے چلے آنے والے فاسد بادشاہی نظام سے نجات بخشی وہیں پوری دنیا کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت سے افق کے عالم پر نمودارہوئی
امام خمینی نے اس وقت ملت ایران کو اغیارکی قید سے نجات دلائی جب تمام سیاسی طاقتیں دین کو مٹانے کی کوشش میں مصروف تھیں ، آپؒ نے ایسے نظام کو قائم کیا جس کی بنیاد صالحیت اور اخلاقی اقدار پر تھی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ "رضا رمضانی" جو حالیہ دنوں عراق کے دورے پر ہیں نے گزشتہ روز نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ شیخ بشیر نجفی سے ملاقات کی ہیں۔
حجۃ الاسلام محمد شیخ الاسلامی نے خواہران کے تعلیمی ادارے "معصومیہ ہائیر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ" کے سربراہ حجۃ الاسلام عشرتی سے ملاقات میں کہاکہ اس ادارے کی تعلیمی خدمات اور مقام کے پیش نظر ہمیں یقین ہے کہ دینی تبلیغ کے میدان میں دینی طالبات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مرجع عالی قدر کی اسلامی، سیاسی، سماجی اور انقلابی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعزیتی کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ اس حوالے سے 4 جون، نماز جمعہ کے بعد مولانا ڈاکٹر سید محمد نجفی جامع علی مسجدحوزہ علمیہ جامعہ المنتظر ماڈل ٹاون میں مجلس ترحیم سے خطاب بھی کریں گے۔
حزب اللہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیخ نعیم قاسم نے کہاکہ الحمد للہ ! سید حسن نصر اللہ بخیرو عافیت ہیں،پچھلے چند دنوں سے ان کی طبیعت ذرا ناساز تھی اس لئے انہیں دو تین دن تک آرام کرنے کی ضرورت تھی، لیکن سید کے تمام چاہنے والے جنوب لبنان کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ان کی تقریر سننے کے منتظر تھے ، اگر وہ تقریر نہ کرتے تو لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات اٹھتے، اس لئے انہوں نے مکمل صحت یابی سے پہلے ہی خطاب کیا تاکہ اس اہم موقع پر اپنے چاہنے والوں کے درمیان رہیں۔ اب الحمد للہ ان کی حالت بہت بہتر ہے۔
بلوچستان کےاس وفد نے بلتستان میں امن کے حوالے سے علامہ شیخ محمد حسن جعفری صاحب کی کوششوں کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔
انہوں نے جامعۃ المصطفی کے اہداف کو مختلف مذاہب اسلامی کے مابین تقریب اور ادیان الہی کے پیروکاروں کے مابین باہمی وحدت قرار دیا اور کہا کہ جامعۃ المصطفی کے اندرونی و بیرونی شعبہ جات میں زیر تعلیم اہل سنت اور دوسرے مذاہب آسمانی کے طلباء اس بات کی واضح مثال ہیں۔