دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
انقلاب اسلامی ایران کی 42ویں سالگرہ کے موقعہ پر مقبوضہ کشمیر کے ضلع کرگل میں آج مختلف جگہوں پر محافل جشن اور جلوسوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا جلوس ضلع صدر مقام کرگل میں امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے بینر تلے برآمد ہوا، جس میں کرگل کے مختلف دیہات سے مومنین سردی اور برف باری کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں شہر کے زینبیہ چوک پر جمع ہوئے۔
قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ سندھ بھر میں ہوم سیکرٹری کے آرڈر پرچہلم کے جلوس میں شرکت کیلئے پیادہ آنے والوں پر 80 کے قریبFIR فی الفور ختم کی جائیں۔
امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ جیسےبلندپایہ فقیہ،عارف،مفسرقرآن اور زمانہ شناس اہلِ علم نےقرآنی آیات کی وہ تعبیریں پیش کیں جوآئمہ معصومین علیہم السلام نےبیان کی تھیں.
انکا کہنا تھا کہ امام خمینی (رہ) اس صدی کے عظیم مفکر اور اسلامی معاشرے کی برجستہ علمی و انقلابی شخصیت ہیں، جنہوں نے علم و شعور اور عمل و کردار کے ذریعے مسلمانوں کی صحیح خطوط پر رہنمائی کرکے پیغمبرانہ فریضہ انجام دیا اور عوام کو اسلامی انقلاب کے ذریعے اسلام کی صحیح اور آئیڈیل تصویر دکھائی، جس کے اثرات آج بھی عالم اسلام میں بالعموم اور مملکت ایران پر بالخصوص نظر آتے ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے انقلاب اسلامی ایران کی 42 ویں سالگرہ کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، اور ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ انقلاب اسلامی ایران کے قائد اور رہبر حضرت امام خمینی نے انقلاب برپا کرتے وقت اسلام کے زریں اصولوں اور پیغمبر اکرم کی سیرت و سنت کے درخشاں پہلووں سے ہر مرحلے پر رہنمائی حاصل کی۔ جس طرح رحمت اللعالمین کے انقلاب کا سرچشمہ صرف غریب اور کمزور لوگ تھے.
قائد انقلاب اسلامی نے عراقی نوجوانوں کے نام ایک خط تحریر کر کے انکے ساتھ اظہار محبت کرتے ہوئے انہیں ایک تابناک مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ عراق کے السیاسہ ٹیلیگرام چینل نے قائد انقلاب اسلامی کا یہ خط شائع کیا ہے جو ۲۱ جنوری کو تحریر کیا گیا تھا۔
انقلاب کی کامیابی سے مراد اسلامی اقدار کے فروغ کے علاوہ تیسری دنیا کے ممالک میں آزادی کی تحریکوں کی لہر کو متحرک کرنا تھا
انقلاب اسلامی کے عظیم بانی امام خمینی (رح) کی پیرس سے جلاوطنی کے بعد ایران آمد سے ایرانی قوم میں ایک نئی روح پھونکی گئی اور انھوں نے صرف 10 دن کے اندر ایک ظالمانہ بادشاہت کا خاتمہ کردیا۔
مدیر مدرسہ امام المنتظر اور وفاق ٹائمز کے منیجنگ ڈائریکٹر علامہ محمد حسن نقوی نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی کا پیغام کسی ایک سرزمین اور ایک ملت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اقوام عالم کے لئے ظلم و استبداد سے نجات کا پیغام ہے، حضرت امام خمینی (رح) اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور سامراج مخالف انقلابی رہنما ہیں کہ جن کے افکار نے عالمی استکباری نظام میں دراڑیں ڈال دیں۔