صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
فرقہ واریت کے سدباب کیلئے مرحوم محمد رفیع عثمانی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
صدر مملکت کی منظوری کے بعد سمری وزیر اعظم ہاؤس کو موصول ہوگی جس کے بعد وزارت دفاع کی جانب سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا۔
شہید ثالث علیہ الرحمہ کے یوم شہادت پر مؤسسۂ امام موسیٰ ابنِ جعفرعلیھما السلام کی طرف سے ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا جو بمقام مہمان سرائے امام حسن علیہ السّلام زیر نگرانئ حرم امام علی علیہ السلام واقع ہوا جس میں دفاتر مراجع کی نمائندگی ،حوزۂ علمیۂ نجف اشرف کے بزرگ اساتیذ اور علمائے کرام کی شرکت رونقِ جلسہ قرار پائی
اس ملاقات میں مرجع عالی قدر نے مومنین کو گناہوں کے آثار بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ گناہ انسان کے دل کو سیاہ کر دیتے ہیں جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے اندر نیکی کرنے کی رغبت ختم ہو جاتی ہے اور گناہ کرنے کی رغبت باقی رہ جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آیات الہی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم یہود کو انتشار اور اختلاف سے رہائی اور نجات دلانے کیلئے اپنی طرف سے پیغمبر بھیجا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے طالوت نامی ایک بہادر اور طاقتور جوان جو کہ گلہ بانی کرتا تھا کو بنی اسرائیل قوم کی رہبری کیلئے متعین کیا اور حضرت اشموئیل نبی کو اس کا تعارف کروا دیا۔
صدر کی طرف سے وزیراعظم کی ایڈوائس روکنے کی صورت میں حکومت کا پلان بی سامنے آ گیا،
انہوں نے اپنی گفتگو میں امام علی علیہ السلام کی سفید پوش لوگوں کی مدد میں سیرت کے حوالے سے کہا: جب کوئی حاجت مند آپ کے پاس اپنی ضرورت لیکر آتا ہے، دینی لحاظ سے زیب نہیں دیتا کہ اس سے غفلت کی جائے؛ اگر ضرورت مند کی فریاد رسی نہ کی جائے، تو زندگی میں مختلف مسائل کا شکار ہو جائے گا.
دوسری جانب، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر ایوان صدر سیکریٹریٹ کو سمری موصول ہوگئی ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔
مولانا سید صفدر حسین نجفی 1932ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے اور 3 دسمبر 1989ء کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ بظاہر یہ ایک مختصر سی زندگی ہے، لیکن ان کے کاموں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ایک شخص کو جوانی کے دو سو سال ملے ہیں اور اس نے ان میں خوب کام کیا ہے۔