صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
، ولادت حضرت صاحب العصر و الزمان (عج) کے موقع پر ہیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کے زیراہتمام ’’مہدویت نجات بشریت‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان سیمینار اور نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری مسجد و امام بارگاہ سیدالشہدا (ع) اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں منعقد ہوئی۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار مسنگ پرسنز کے رہنماؤں اور خانوادہ اسیران ملت جعفریہ نے اعلان کیا ہے کہ 2 اپریل بروز جمعہ کراچی سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے، کراچی میں تاریخی احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جو تمام شیعہ مسنگ پرسنز کی بازیابی تک جاری رہے گا۔
مقررین نےعلامہ قاضی غلام مرتضیٰ کی قوم و ملت کی خاطر کی گئی مخلصانہ جدو جہد اور زحمات پر اُنہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور اُ ن کے دینی و ملی پراجیکٹس کی تفاصیل بیان کرنے کے علاوہ اُن کی روز مرہ زندگی سے وابستہ یادوں کو بھی اس طرح تازہ کیا۔
جامعہ مدرسین کے سربراہ آیت اللہ ہاشم حسینی بوشہری نے قم کی مسجد الزہرا میں منعقدہ پروگرام 800معیشت پیکیج کی تقسیم کے موقع پر حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت باسعادت کی مبارکبادی دیتے ہوئے کہاکہ مسجد الزہرا نے ثابت کردیا کہ اس کی آبادی صرف میناروں اور گلدستوں میں نہیں ؛ بلکہ لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے قائم کی گئی اس مرکزیت میں ہے.
ایران کے حوزہ علمیہ خواہران کی ثقافتی اور تبلیغی مسؤل معصومہ ظهیری نے کہا کہ ہر شخص کو چاہئے کہ مہدی موعودؑ کے ظہور کی راہ میں حتی المقدور قدم بڑھائے۔
پاکستانی دینی مدارس کا ترجمان “15 روزہ وفاق ٹائمز” کی چوتھی اشاعت پی ڈی ایف فائل کی صورت میں شائع کردی گئی ہے۔
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر کے مہتمم اعلیٰ علامہ محمد افضل حیدری کے مطابق قادیانی وفد نے دین مبین اسلام اور ختم نبوت کے بارے میں سوالات کیے اور تسلی بخش جوابات سے مطمئن ہوکر دین اسلام قبول کیا اور مرزا احمد قادیانی سے اظہار برأت کیا ہے۔
اس ملاقات میں حضرت آیت اللہ حافظ بشیر نجفی نے کہا کہ معصومین علیہم السلام فرماتے ہیں جو شخص ہر روز اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔
ولادت باسعادت حضرت امام مہدی (عج) کے سلسلے میں سادات محلہ احمد پورہ میں جامعہ خدیجة الکبریٰ صلوۃ اللہ علیہا کے زیر اہتمام ایک محفل کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی خواتین کے علاوہ طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔