صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حرم امام رضا علیہ السلام میں راہِ قدس کی پہلی ایرانی شہیدہ خاتون معصومہ کرباسی کے جسد مطہر سے الوداعی رسم کا انعقاد کیا گیا جس میں حرم امام رضا(ع) کے متولی نے بھی شرکت فرمائی۔
حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا: شہید حجت الاسلام والمسلمین سید ہاشم صفی الدین نہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ حکمت، صبر، استقامت اور ایثار کی علامت بھی تھے، اور حزب اللہ اور تمام محاذ مقاومت کے لئے ایک قابل فخر نمونہ تھے۔
حزب اللہ نے اسرائیلی حملے میں حسن نصراللہ کے ممکنہ جانشین اور اپنے اہم ترین رہنما ہاشم صفی الدین کی شہادت کی تصدیق کردی۔
سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر، آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نقوی نجفی کے خط کے جواب میں کہا کہ اسرائیل کا زوال قریب ہے اور یہ جعلی اور ظالم حکومت جلد ہی ختم ہو جائے گی۔
آیت الله العظمیٰ بشیر نجفی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے لبنان میں صیہونی حملوں کے بعد کی انسانی اور سیکیورٹی صورت حال پر گفتگو کی۔ وفد نے مرجعیت کے کردار کی تعریف کی جو مسلمانوں کے اہم مسائل کی نگرانی کرتی ہے، اور لبنان کے استحکام کی حمایت میں ان کی کوششوں کو سراہا۔
اجلاس کے آغاز میں حجت الاسلام والمسلمین فقیہ اسفندیاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں پہلے سے کئی گنا زیادہ ایک نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل کے لئے ایک زیارتی سافٹ ویئر کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے تجربات کے تبادلہ ضروری ہے ۔
آیت الله نوری همدانی نے طلاب کی کم تعداد اور مدرسوں میں انتظامات کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حوزہ علمیہ قم کو عالم اسلام کی مشکلات کا حل فراہم کرنے کے لیے مزید متحد ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا: اگر آج اسلامی ممالک کے رہنما فلسطین اور لبنان کی مدد کو نہ پہنچیں تو کل یہی اسرائیل ان کو بھی نشانہ بنائے گا، یہ ممکن نہیں کہ آج وہ ان کی مدد نہ کریں اور کل خود محفوظ رہیں، کیونکہ وہ بھی اسلام کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ میں غاصب صہیونی رژیم کی ایک سالہ نسل کشی اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر خطے کے ممالک میں باہمی تعاون اور ہمسوئی پیدا ہونے کا امکان ہے اور ممکن ہے ایران، ترکی اور عرب ممالک میں ایک علاقائی اتحاد تشکیل پا جائے۔