شہداء کی قربانیاں اور عوامی یکجہتی ایران کی سربلندی کی ضمانت ہیں، صدر پزشکیان
























آج امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی استکباری و شیطانی قوتیں عالمِ اسلام کے اس عظیم اور باوقار رہبر کے بالمقابل صف آرا ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ باطل، ظلم اور استکبار کی قوتوں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت، رسوائی اور شکست ہی لکھی گئی ہے
حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی کی رحلت ملت تشیع کے لیے نا قابل تلافی نقصان ہے آپ نے ہمیشہ مکتب تشیع کی ہر عنوان سے خدمت کی آپ کے آثار و افکار رہتی دنیا تک تشیع کی ترویج کا سبب ہیں آپ کو صنف روحانیت میں شیخ المراجع سے یاد کیا جاتا ہے آپ عمر مبارک ١٠٣ سال تھی۔ آپ ایک عظیم عزادار امام حسین تھے اس کے ساتھ ساتھ آپ انقلاب اسلامی کے بعد ایران کے بنیادی قانون بنانے والی کمیٹی کے رکن اور امام خمینی رح کے حکم پر شوری نگہبان کے رکن و سربراہ تھے
انا لله و انا الیه راجعون
انہوں نے کہاکہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی بلند پایہ عالم اور فقیہ تھے۔مرحو م مجتہد کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ مرجع گراں قدر حضرت آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ صافی گلپائیگانی کا انتقال پرملال عالم اسلام اور ملت تشیع اور حووزہ ہائے علوم دینیہ کے لیے بہت بڑا نقصان اور غم و اندوہ کا باعث ہے۔
آیت اللہ العظمی لطف الله صافی گلپایگانی رہ 19 فروری سنہ 1918 کو ایران کے شہر گلپایگان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت اللہ محمد جواد صافی مرحوم اپنے زمانہ کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے فقہ، اصول، کلام، اخلاق، حدیث اور تفسیر کے موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کیں۔ آپ کی والدہ مرحومہ بھی ایک صاحب علم اور ذی استعداد خاتون ہونے کے ساتھ مداح اہلبیت (ع) بھی تھیں۔
بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کچھ ہی دیر پہلے انتقال فرما گئے.
امام خمینی ؒ جیسے حکیم اُمت رہنما نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نہ فقط مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے درمیان وحدت ویکجہتی کا جو ایجنڈا اُٹھایا ہے