غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























انسان جس دنیا میں رہتا ہے اگر اسے مقصد اور ہدف زندگی سمجھ بیٹھے تو جتنی دنیا زیادہ ملے گی اتنا خوش ہوگا اور خود کو کامیاب انسان سمجھے گا۔
ٹال مٹول کام میں رکاوٹ بنے گی اور اس شخص، یا اس گروہ بلکہ اس سربراہ کو بھی ناکامی کا سامنا ہوگا۔
سمجھدار انسان وہی ہے جو دوسروں سے سیکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا بلکہ وہ تلاش میں رہتا ہے کہ کسی سے سیکھوں۔ احادیث میں آیا ہے کہ مومن علم کو اپنی گمشدہ میراث سمجھتا ہے، منافق سے بھی ملے تو لے لیتا ہے۔
سعادت و کمال کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ان راہوں کے خطرات سے آگاہ ہونا لازم ہے تاکہ ان خطرات سے بچ کر منزل تک پہنچا جا سکے۔ امیرالمؤمنینؑ نے اس فرمان میں دو اہم خطروں سے آگاہ فرمایا ہے۔ ایک خواہشات کی پیروی اور دوسرا لمبی امیدیں۔
انسان کے کمال تک پہنچانے میں رہبروراہنما کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ کامیاب راہنما سب سے پہلے یہ ثابت کرتا ہے کہ میں کامیاب ہوں تب ہی لوگ اسے راہنما مانتے ہیں۔
سخاوت و دردمندی کے ذریعے قبیلے کی محبت کا قلعہ مضبوط کر سکتا ہے۔ نرم مزاجی معاشرے میں سکون و آرام اور محبت و الفت پھیلا سکتی ہے ۔
إذا قام القائم لایبقى أرض إلّا نودى فیها شهاده أنْ لا إله إلّا الله و أنّ محمّداً رسول الله۔
«مَنْ عَبَدَ اللّهَ حَقّ عِبَادَتِهِ آتاهُ اللّهُ فَوْقَ اَمَانِيهِ وَ كِفَايَتِهِ».