یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























اللہ سے اس کے بندوں اور اس کے شہروں کے بارے میں ڈرتے رہو۔اس لیے کہ تم سے زمینوں اور چوپایوں کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا۔
اس خطبے میں امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں کہ اللہ نے ہدایت کرنے والی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں اچھائیوں اور برائیوں کو کھول کر بیان کیا ہے
امیرالمؤمنینؑ نے ان دو جملوں میں دو مشہور مثالوں کا حوالہ دیا ہے۔ یہ مثالیں قرآن میں بھی دوسرے الفاظ میں بیان ہوئی ہیں اور انبیاء و حکماء نے بھی مختلف الفاظ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔
انسان کی زندگی میں کبھی غم تو کبھی خوشی، کبھی فقر تو کبھی دولت کی دھوپ چھائوں رہتی ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ اُسے دیا جائے تو راضی اور ساری زندگی دینے کے بعد مختصر وقت کے لیے روک لیا جائے تو شکوہ و شکایت۔
قرآن کی تعلیمات کے مطابق گھاٹے سے وہی انسان بچ سکتا ہے جو اپنے عقیدہ و ایمان کے ساتھ دوسروں کو بھی حق و حقیقت کی وصیت کرتا ہے، اگرچہ اس راہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انجام دینے والے کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
انسان کا انسان سے برتاؤ اس کی فکر کا عکاس ہوتاہے۔ اگر کوئی انسان دوسرے انسان کی عزت و احترام کا قائل ہے تو یہ خود اس کے معزز و مکرم ہونے کی نشانی ہے اور اگر دوسرے کی اہمیت و عظمت کا قائل نہ ہوگا تو یہ خود اس کے کم ظرف ہونے کو ظاہر کرے گا
معلم قرآن امیرالمؤمنینؑ نے کمال انسانیت کے یہ دو نسخے یعنی سیرت نبیؐ اور تعلیم کتاب ہمیں بتا دئے۔ اس راہنمائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان کمال کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔
امیرالمؤمنینؑ یہاں دنیا سے بے تحاشا محبت کے نقصانات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ گویا بےتحاشا محبت آنکھوں کو اندھا اوردل کو صحیح سوچ سے محروم کر دیتا ہے۔
امیرالمؤمنینؑ یہاں انسان کو ایک فریضے کے طور پر یاد دلا رہے ہیں کہ کوئی شخص جہالت و نادانی کی وجہ سے یا غفلت کی بنا پر غلطی کر رہا ہے تو آپ یہ مت سوچیں کہ مجھے کیا ہے بلکہ اسے سمجھانا بھی آپ کی ایک ذمہ داری ہے