غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























دوسروں سے پند و نصیحت حاصل کرنا اور ان کے تجربوں سے فائدہ اٹھانا سعادت مندی ہے ۔ اگر کوئی شخص دوسروں کی زندگیوں کے بجائے اپنی گزشتہ زندگی کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھتا تو اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں۔
اگر کوئی شخص دنیا کی حقیقت کو سمجھ لے اور اس کے عارضی ہونے پر یقین کر لے تو وہ اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے گا۔
اس لیے احادیث میں آیا ہے کہ جو آدمی کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا وہ اللہ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔اگر انسانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا یہ جذبہ پیدا ہو اور جس کے ساتھ احسان کیا گیا ہو وہ اس پر شکر گزار رہے تو معاشرے میں پیار محبت کا اضافہ ہوگا
اگر کوئی کامیابیوں کی بلندیوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو پیغمبر اکرم ؐکے کمال کی راہ اپنائے اور سیرت میں ان کی پیروی کرے
یہ عقیدہ رکھ کر انسان کسی سے بھلائی کرے گا تو اس سے شکریہ کا طلب گار نہیں ہو گا اور اُس کی بے وفائی پر دل شکستہ نہیں ہو گا۔اس لیے کہ اگر وہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے کر رہا ہے تو اسے اطمینان ہو گا کہ جس کے لیے یہ کر رہا ہوں وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
نعمت حقیقت میں ایک امتحان ہے اور کامیاب انسان وہی ہے جو انہیں اپنا حق نہ سمجھ بیٹھے بلکہ امتحان کا ذریعہ جانے۔
اس فرمان میں امیر المؤمنینؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک کو لے لو اور دوسرے کو چھوڑ دو بلکہ ایک کامیاب تجارت کا طریقہ بتایا ہے کہ جو ختم ہونے والا سرمایہ ہے
دنیا کی حقیقت کے بیان کے لیے یہ خوب صورت تشبیہ ہے۔ انسان اگر دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو یہی دنیا اس کے لیے کمال کا ذریعہ بن سکتی ہے
انسان جب خواہشات کی پیروی کرنے لگتا ہے تو وہ صحیح و غلط اور حق و باطل کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنی خواہشیں پوری کرنے کے لیے برے سے برا کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور یوں خواہشات کی تکمیل کے لیے قوانین کو پامال کرتا ہے اور عقل کے تقاضوں کو پاؤں تلے روند ڈالتا ہے۔