غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























انسان دُنیا میں اپنے راستوں کو روشن کرنے کے لیے چراغ جلاتا ہے۔ یہ چراغ اسے تاریکیوں سے نجات دیتے ہیں
عَنْ ابنِ عباس قٰالَ: قٰالَ رَسُوْل اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ: علیٌ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ عَلَی الْحَوْضِ لَایَدْخِلُ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ جَاءَ بِجَوَازمِنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب۔
انسان جب اپنی قدر و منزلت کو بھلا دیتا ہے تو یہ اس کی نادانی کی انتہا ہوتی ہے۔ وہ اپنے مقام کو بھلا کر بہت کچھ ایجاد کرنے میں تو مشغول رہتا ہے مگر انسانیت کھو دیتا ہے
اس فرمان میں عیال کےلفظ سےایک طرف مخلوق سے اللہ کی محبت و رحمانیت کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف آپؑ کے اس فرمان کہ “ اللہ نے سب کا رزق اپنے ذمہ لیا ہے اور سب کی روزی مقرر کر رکھی ہے” سے اللہ سبحانہ کا مخلوق کے لیے کفیل ہونا ثابت ہے
سچ یعنی حقیقت و واقعیت کے مطابق بات یا عمل کرنا اورجھوٹ یعنی حقیقت و واقعیت کے خلاف بات یا عمل کرنا
اس فرمان میں امیرالمؤمنینؑ نے محبوب خدا کی ایک نشانی یہ بیان فرمائی ہےکہ وہ مقصد اور مشن پر یوں پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا یقین سورج جیسی چمک دمک رکھتا ہے
اس جملے میں امیرالمؤمنینؑ نے خود کو بطور راہنما پیش کیاہے اور اپنے سات اوصاف میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ میں نے آپ کو زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر پاکیزہ اخلاق دکھائے ہیں
اس فرمان کو اکثر افراد نے آخرت کی اصلاح کے لیے بیان کیا ہے جبکہ حقیقت میں یہ دنیاوی و اخروی دونوں زندگیوں کی اصلاح کا بہترین قانون ہے۔
بد بخت وہ نہیں جو حالات زمانہ یا مجبوریوں کی وجہ سے علم و معرفت حاصل نہ کر سکا ہو بلکہ بد بخت وہ ہے جسے علم و معرفت نے مغرور و خود پرست بنا دیا ہو۔ بدبخت وہ نہیں جو راہ نہ چل سکتا ہو