صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اخبارات کے ایڈیٹرز اور الیکٹرانک میڈیا کے ذمہ داران کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے اپیل کی ہے کہ درست اوقات سحر و افطار کو شائع اور نشر کیا جائے۔ تاکہ عوام تک معلومات صحیح انداز سے پہنچ سکیں۔
ریلی و سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا،شوبراہ چوک کو شہداء فلسطین سے منسوب کیا جائے
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں نے بارود سے گھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرادی نتیجے میں لیفٹننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت سات فوجی اہلکار شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔
وزیراعظم پاکستان کے نام اپنے خط میں اسماعیل ہنیہ مزید لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے بھیانک جرائم کو آشکار کرنےا ور اس کے خلاف مقدمہ چلانے میں مدد کی جائے، اور صہیونیوں کی جانب سے جاری جنگی جرائم اور غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی پاداش میں اسے سیاسی اور سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اجتماع سے خطاب کے دوران معروف عالم دین نے کہا کہ ہمیں فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حقوق کی بات کرنا ہوگی کیونکہ یہ ماہ مقدس ہمیں رب کی رضا مندی اور اہلبیت رسولؑ کی محبت کا عملی مظاہرہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔
آیت اللہ سید حافظ ریاض نجفی نے علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے کہا نعمتوں کا شکر فقط زبان سے نہیں بلکہ عملی طور بھی لازم ہے۔جس کے پاس جو نعمت ہے وہ اس میں دوسروں کو شریک کرے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے وجود سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن شور مچاتی رہ گئی، حکومت نے 7 آرڈی ننسز میں 120 دن کی توسیع کروالی، وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں آرڈیننس توسیع کے لئے قرار داد پیش کی تو اپوزیشن نے شور شرابہ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور آرڈیننس کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ ایوان نے غزہ میں اسرائیلی ظلم کے خلاف قرارداد بھی منظور کرلی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: مقدسات کی توہین بین الاقوامی چارٹرز کی خلاف ورزی، شعائر اسلام کی بڑھتی بےحرمتی انتہائی قابل مذمت و قابل تشویش ہے۔
انہوں نے کہا ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ خالی رمضان نہ کہا کریں،بلکہ رمضان ا لمبارک کہیں۔ جیسے کہ قرآن مجید کو خالی قرآن کہنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ قرآن مجید ،قرآن کریم یا قرآن حکیم کہیں یہ نام قرآن مجید میں موجود ہیں یا اپنی زبان میں قرآن پاک کہہ لیں تو یہ بھی ٹھیک ہے ۔