دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
افتتاحی تقریب میں علامہ محمد افضل حیدری صاحب, علامہ سید محمد حسن نقوی صاحب , علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی ، علامہ محمد باقر گھلو ، ودیگر علماء کرام و مومنین نے شرکت کی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سامراج نے اپنے ناجائز بچے کے تحفظ کےلئے اس بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی قوانین اور روایات کو روند چکاہے بلکہ اپنے منصوبوں کو خاک میں ملتا دیکھ کر بد مست ہاتھی کی طرح پاگل ہوچکاہے
آج شیعہ سنی متحد ہوکر قبلہ اول کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور فلسطین کا محاذ شیعہ سنی وحدت کا عملی ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مذموم مقاصد پر مبنی ملک دشمن دہشت گردوں کی بہیمانہ سازش ہے، پارہ چنار ایک حساس اور دفاعی حوالے سے انتہائی اہم علاقہ ہے، جس کا بدامنی کی لپیٹ میں آنا تشویشناک ہے، ریاست اور سیکورٹی ادارے اس جنگ کو بروقت روکنے میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہاکہ جماعتیں، تنظیمیں ،گروہ اور بہت سے افراد سیمینارز، ریلیوں اور بیانات کے ذریعے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو اہمیت کا حامل ہے لیکن ہائی جیکنگ،کریڈٹینگ یا زیادہ سے زیادہ فارورڈاور شیئرنگ جیسی عمومی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ توقع رکھنا بے جا ہے
اُنہوں نے کہا کہ غزہ پر حملوں میں 18 ہزار ٹن بارود استعمال کیا جا چکا ہے جس سے 8 ہزار 306 سے زیادہ مسلمان بھائی شہید اور 1 لاکھ 80 ہزار مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پارا چنار میں حالات خراب کئے جا رہے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس ہیں کہ ہر چند منٹس میں ایک فلسطینی بچہ شہید ہورہاہے اور اب شہدا کی تعداد گنتی سے بھی باہر ہوتی جارہی ہے
انہوں نے کہا کہ وہی لوگ دنیا میں عظیم کارنامے انجام دیتے ہیں اور تاریخ انسانی پر نقش چھوڑتے ہیں جن کے اہداف عظیم ہوتے ہیں۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عظیم اہداف کے لئے جدوجہد کی نصرت الٰہی ان کے ساتھ رہی۔