صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس ہیں کہ ہر چند منٹس میں ایک فلسطینی بچہ شہید ہورہاہے اور اب شہدا کی تعداد گنتی سے بھی باہر ہوتی جارہی ہے
انہوں نے کہا کہ وہی لوگ دنیا میں عظیم کارنامے انجام دیتے ہیں اور تاریخ انسانی پر نقش چھوڑتے ہیں جن کے اہداف عظیم ہوتے ہیں۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عظیم اہداف کے لئے جدوجہد کی نصرت الٰہی ان کے ساتھ رہی۔
اراکین نے غزہ میں غاصب اسرائیلی حکومت کے جرائم کے تسلسل، بچوں سمیت عام شہریوں کے قتل عام، الاہلی اسپتال سمیت طبی مراکز پر وحشیانہ حملوں اور صہیونیوں کی جانب سے فاسفورس بموں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ غیر مسلم ممالک میں لاکھوں انسانوں نے فلسطینیوں کا درد محسوس کیا وہ اپنی حکومتوں کے خلاف سڑکوں پہ نکلے، یہاں تک کہ یہودیوں نے فلسطین کا پرچم اٹھا لیا ظلم کے خلا ف سراپا احتجاج بن گئے۔
علامہ شبیر حسن میثمی کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنار چاروں طرف سے محاصرے میں ہے، بے گناہ انسانوں کی جانوں سے کھیلنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں، نگران حکومتیں اور انتظامیہ امن قائم رکھنے کیلئے عملی اقدامات کریں
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ او آئی سی کا اجلاس انتہائی تاخیر کے ساتھ ہوا اور اس کا نتیجہ پوری دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا۔ وہ یہ کہ مسلم حکمران ایک منٹ کے لیے بھی امت کی ترجمانی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
فلسطینوں کی بے مثال مقاومت اور جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کرنے اور مظلومین فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام امام بارگاہ G/6-2 تا ڈی چوک اسلام آباد خواتین اور بچوں کی حمایت فلسطین و دفاع غزہ ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
آج جو بھی اس راستے کا انتخاب کرتا ہے، وہ ہی کامیاب ہوتا ہے، کامیابی کا راستہ کربلا کا راستہ ہے، جس میں قربانی بھی ہے اور عزت و عظمت بھی، صیہونی ریاست کو اس ہمت، جرات اور استقامت کا جذبہ ہی نابود کرسکتا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ کے سابق نائب صدر بزرگ عالم دین علامہ سید نیاز حسین نقویؒ کی تیسری برسی کی تقریب جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاون لاہور میں منعقد ہوئی۔ آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی، اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، سید مہدی نقوی، مولانا افتخار نقوی، مفتی شبیر عثمانی، مفتی گلزار نعیمی اور دیگر نے خطاب کیا۔