صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آرمی چیف نے فکری اور تکنیکی علوم کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تفہیم اور کردار سازی کے لیے نوجوانوں کو راغب کرنے میں علمائے کرام کے کردار کی نشاندہی بھی کی۔
اس احتجاجی اجتماع میں پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم فلسطینی اور دیگر ملکوں کے طلبا نے بھی حصہ لیا۔ یونیورسٹی کے طلبا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے تھے



انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس استقلال اور حریت نہیں ہے تو گویا کچھ بھی ہمارے پاس نہیں۔ یہ سب کچھ ملتا ہے قرآن و اہل بیت سے۔ اہل بیت ؑ کو چھوڑنے والوں نے پہلے دن سے ہی کہہ دیا تھا ہمارے لئے قرآن ہی کافی ہے لیکن رسول اللہ کے فرمان کے مطابق قرآن اور اہل بیت کو ماننے والوں کو حقیقی طور پر اہل ایمان بننا چاہیے۔
قرآن صرف ثواب کی نہیں،بلکہ عملی کتاب ہے، پڑھیں، سمجھیں اور عمل کریں، قرآن مجید کو اپناو گے تو علم حاصل ہوگا، حریت وآزادی آ ئے گی
اعلامہ انور علی نجفی نے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کو سراہا اور فرمایا کہ اس نوعیت کا مقابلہ جامعہ میں جاری رہنا چاھیے ۔



جامعہ امام صادق میں اس بار حوزوی علوم کے ساتھ ساتھ انگلش لنگویج کمپیوٹر کی کلاسیں بھی منعقد ہو رہی ہیں تاکہ طلاب جدید علوم سے بھی مسلح ہو کہ بہتر انداز میں دین کی خدمت کرنے کا موقع مل سکے۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کی انتہا کردی، وہ فلسطینیوں پر بدترین ظلم ڈھا رہا ہے، غزہ کے مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ علامہ طباطبائی کی شخصیت کئی حوالے سے ممتاز تھی جن میں علم، پرہیزگاری، ادب اور فنون لطیفہ سے لگاو، دوستی اور وفاداری شامل ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی علمی پہلو تھے۔
علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فلسطین عربوں کا نہیں، بلکہ اُمت کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس کے حل کیلئے ملت جعفریہ پاکستان پوری امت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔