صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علماء کرام نے اپنے خطابات کے دوران کلام امیرالمؤمنین علیہ السلام کی اہمیت اور معاشرے میں اس کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں ایران، ترکیہ اور الجزائر کی تجاویز آئیں۔ پوری صورتحال میں واحد مسلم ایٹمی ملک پاکستان غائب ہے، اجلاس میں پاکستان کی کسی تجویز کا ذکر نہیں، پاکستان خاموش ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں تجویز آئی ہے کہ تیل بند کیا جائے، فوج مل کر مقابلہ کرے، لیکن اس پر چند ممالک نے عمل نہیں کیا، صرف جنگ بندی کی بات ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مغربی یلغار ہمارے مستقبل کے ذہنوں کو غلط چیزوں کی طرف مائل کرنے میں بہت سرگرم ہے، اس لیے جو اسلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر عمل پیرا ہیں،
یوم اقبالؒ کی مناسبت سے امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے شعبہ اسکاوٹنگ کی جانب سے سکاوٹس کے دستے نے مزار اقبالؒ پر حاضری دی، سلامی پیش کی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے محصور غزہ میں جارحیت پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل مہلک بمباری افسوسناک ہے، اسرائیل فرعون وقت بن چکا ہے۔
مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر دور کے لیے جاذب اور رہنما ہےحکیم امت کی وہ انقلابی شاعری جس میں مسلمانوں کی غیرت و حمیت ان کے مقام و مرتبہ اور یہود و نصارٰی کی سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے قرآن و سنت اور تاریخ اسلام سے جس طرح مثبت انداز میں استفادہ کیا وہ اُن کا طرئہ امتیاز تھا؛ اس استفادے کا واضح اظہار آپ کے کلام میں دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ آپ نے جگہ جگہ پراسلام ،پیغمبراکرم ۖاور دینی اقدار وروایات کو موضو ع کلام بنایا ہے۔
علامہ اقبال ؒ نے ہمیشہ مغرب کے دہرے معیار سے امت کو خبردار کیا اور آج یوم اقبالؒ کا تقاضا بھی یہی ہے۔ غزہ میں خاک و خون میں غلطاں بچے اور مغربی حکمرانوں کی بے حسی بتا رہی ہے کہ حکیم امت علامہ اقبالؒ نے درست کہا تھا