رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
قائد ملت نے کا کہنا تھا کہ ہم ایک عرصہ سے متوجہ کرتے آئے ہیں کہ جب تک آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اور آئین میں فراہم کی گئی شخصی آزادی کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے، افسوس آج معاشرے کا ہر طبقہ پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہے، بچوں سے زیادتیوں سمیت راہ چلتے شہریوں کے جان و مال پر آئے روز حملوں کی خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں تو دوسری طرف ہوشربا مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے،
قابل ذکر ہے کہ مجالس کا سلسہ کم از کم تین دن تک جاری رہے گا۔ جب کہ فاطمیہ دوم کی مجالس کا آغاز اگلے مہینے سے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خاتون جنت سیدہ فاطمة الزہرا ؑ کی یاد اور پیغام کو زندہ رکھنے کے تین طریقے ہیں، پہلا یہ کہ ان کی ذات اقدس سے عقیدت و احترام اور محبت کا اظہار کیا جائے اور ان سے مکمل وابستگی دکھائی جائے۔ دوسرا یہ کہ ان کو اسلام، انسانیت اور طبقہ نسواں کی خدمت کرنے پر خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جائے۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف جوہری کی کتاب"مثالی گھرانہ قرآن و سنت کی روشنی میں"چھپ کر منظر عام پر آگئی ہے۔
ڈویژنل صدر آئی ایس او جوہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت وقت نے سانحہ پشاور کے مرکزی ملزم کو آزاد چھوڑ کر پوری قوم سے خیانت کی ہے اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی حکومت تحریک طالبان کے سفاک درندوں سے مذاکرات کے لئے جتن کر رہی ہے، ہم اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے واضح کیا کہ علماءاور دینی طلباءکے لاپتہ ہونے کے واقعات ،وزارت تعلیم اور اتحاد تنظیمات مدارس کے درمیان ہونے والے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے جس میں طے کیا گیا تھا کہ ” حکومت کسی بھی مدرسے کے خلاف شکایت کی بنا پر کارروائی سے پہلے متعلقہ بورڈ(وفاق المدارس)کی قیادت کو اعتماد میں لے گی“۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے بعد قوم جس طرح دہشت گردوں کے خلاف یک زبان تھی آج بھی اسی وحدت و اخوت کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر فریقین نے باہمی تجارت کی راہ میں حائل کسٹم جیسی رکاوٹوں، دونوں ملکوں کے تاجروں کے اندر ایک دوسرے کی گنجائشوں کی شناخت نہ ہونے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے تجارتی وفود کی رفت و آمد کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
16 دسمبر کے حوالے سے انہوں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ سانحہ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کے ان المناک سانحات میں سے ایک اندوہناک واقعہ ہے، جب تعلیم میں مشغول بچوں سمیت 140 ہم وطنوں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔