صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر فریقین نے باہمی تجارت کی راہ میں حائل کسٹم جیسی رکاوٹوں، دونوں ملکوں کے تاجروں کے اندر ایک دوسرے کی گنجائشوں کی شناخت نہ ہونے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے تجارتی وفود کی رفت و آمد کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
16 دسمبر کے حوالے سے انہوں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ سانحہ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کے ان المناک سانحات میں سے ایک اندوہناک واقعہ ہے، جب تعلیم میں مشغول بچوں سمیت 140 ہم وطنوں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔
علامہ عارف حسین واحدی نے اسلام آباد میں مفسر قرآن بزرگ عالم دین علامہ شیخ محسن علی نجفی سے ملاقات کی ہے۔
شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی سے سری لنکا ہائی کمیشن کے ڈیفینس ایڈوائزر منسٹر کونسل بریگیڈیر شیونتھ کلاتنگے نے ٹیلی فونک رابطہ کر کے ایس یو سی کی جانب سے سیالکوٹ واقعے کی مذمت اور سری لنکن عوام سے اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے ایک وفد نے صوبائی آرگنائزر شمالی پنجاب شیعہ علماء کونسل علامہ محمد اصغر یزدانی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سید الطاف عباس کاظمی کی قیادت میں سیالکوٹ سانحہ میں ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان سے ملاقات کی۔
مولا نا تطہیر زیدی نے نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ جتنا ہو سکے کمائیں اور اپنے آپ کو مضبوط کریں۔ دنیا پرستی کے لئے نہیں بلکہ دنیا داری کے لئے۔ اپنی سہولیات ، آسائشات اور ضروریات پر حلال طریقے سے خرچ کریں اور فضول خرچی اور اسراف سے بچیں۔
اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ ہی معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ کچھ افراد کی وجہ سے عدلیہ متنازع بھی رہی ہے۔ جس کی وجہ سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی۔ غیر جانبدار جج بھی عدلیہ میں موجود رہے اور اب بھی ہیں لیکن عدلیہ کو اپنے چہرے پر لگے داغ دھبوں کو دھونا ہوگا۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ پاکستان تمام مسلمانوں نے مل کر بنایا تھا اور ہم سب کو مل کر اس کی جغرافیائی حدود کا دفاع کرنا ہے اور پاکستان سے انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے، موجودہ حکمرانوں نے مہنگائی کے سبب عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، ملک کی صورتحال انتہائی ابتر ہوگئی ہے، حکمران عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بھی ناکام نظر آتے ہیں۔
کراچی میں کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ علماء و ذاکرین آپسی اختلافات باہمی گفتگو سے حل کریں، تاکہ اس کے اچھے اثرات عوام پر مرتب ہوں، اس وقت حالات انہتائی مخدوش ہیں۔