صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امام خمینی جانتے تھے کہ اسرائیل کو محض فلسطین تک محدود رہنے کے لئے مسلط نہیں کیا گیا ہے بلکہ اسرائیل عالم اسلام پر قبضہ چاہتا ہے، اسی لئے امام خمینی نے شروع سے اسرائیل کے خلاف جدوجہد شروع کی
امام خمینی ؒ کی عظیم شخصیت نے جہاں ایران کی عوام کو قدیم زمانے سے چلے آنے والے فاسد بادشاہی نظام سے نجات بخشی وہیں پوری دنیا کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت سے افق کے عالم پر نمودارہوئی
امام خمینی ایک نڈر سپاہی تھے جن کی کوششوں سے تشیع کا خصوصا اسلام کا حقیقی تعارف اور مثبت تصویر لوگوں تک پہنچی ان کی اسلام کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
مرجع عالی قدر کی اسلامی، سیاسی، سماجی اور انقلابی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعزیتی کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ اس حوالے سے 4 جون، نماز جمعہ کے بعد مولانا ڈاکٹر سید محمد نجفی جامع علی مسجدحوزہ علمیہ جامعہ المنتظر ماڈل ٹاون میں مجلس ترحیم سے خطاب بھی کریں گے۔
بلوچستان کےاس وفد نے بلتستان میں امن کے حوالے سے علامہ شیخ محمد حسن جعفری صاحب کی کوششوں کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔
جامعہ المنتظر کے سربراہ اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی سے علامہ عارف حسین واحدی نے جامعہ المنتظر لاہور میں ملاقات کی۔ علامہ عارف واحدی نے آیت اللہ سید ریاض حسین نجفی سے ان کی ہمشیرہ اور بھانجی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور مرحومین کی بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی۔
لاہور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ قوانین کی موجودگی میں وقف پراپرٹیز ایکٹ 1979ء میں ترامیم کرکے مساجد، دینی مدارس، مزارات اور رفاعی اداروں کو چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کے ماتحت کرنے اور انکا کنٹرول سنبھالنے کیلئے FATF کو جواز بنا کر وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020ء منظور کیا گیا، یہ دراصل فیٹف کو جواز بنا کر مساجد، مدارس، مزارات اور رفاہی اداروں کی خود مختاری آزادی ختم کرنے کی ابتدا ہے۔
امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر پچھتائیں گے۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہیں، مسلم امہ اور پاکستان کے فیصلہ سازوں کو پیغام دینا ہے کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کریں، اسرائیل کو ان کے نئے دوست مسلمان ممالک کی دوستی کی وجہ سے شہہ ملی، اب غیرمسلم ممالک میں بھی فسلطینیوں کے حق میں آواز بلند ہورہی ہے۔
اجلاس میں دہشت گردی، فرقہ واریت، فورتھ شیڈول اور عزاداری کے خلاف مقدمات کا جائزہ لیا گیا اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں لاقانونیت اور بدامنی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ۔جڑانوالہ اور بہاولنگر میں مساجد کے اندر موذنوں اور نمازیوں کی شہادت کے واقعات اتفاقی نہیں ۔یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔