صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں فرانس میں سرکاری سرپرستی میں توہین رسالت کیخلاف فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد جمعہ تک موخر کردی گئی ۔
ایرانی قیادت کے ساتھ خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔ افغان امن عمل میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کے ہر حکم کو بجا لا رہی ہے۔ پاکستان کو تماشا بنا دیا گیا ہے۔ ڈالروں اور بین الاقوامی امداد کے حصول کے لیے حکومت آئے روز ایسے ایشوز اٹھاتی ہے، جن سے اسلامیان پاکستان کے دل زخمی ہوتے ہیں۔ حکومت ایسا ماحول بنا رہی ہے کہ اگر اسلام پسندوں کو نہ روکا گیا تو یہ ہر طرف چھا جائیں گے۔
حجۃ الاسلام محمد حسین اکبر، حافظ طاہر اشرفی، ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی، پیر ابوالحسن محمد شاہ، محمد حسن حسیب الرحمان، مولانا حامد الحق حقانی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، پیر زادہ جنید امین، مفتی محمد زبیر، سید محمد حبیب عرفانی اور مولانا نسیم علی شاہ شامل ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر قوم سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا، یہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے، ہمارے نبی(ص) لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں اس لیے دنیا میں کہیں بھی ان کی شان میں گستاگی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور صرف ہمیں نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کو ہوتی ہے۔
حجۃ الاسلام عبدالخالق اسدی نے کہا ہے کہ نہتے شہریوں اور عاشقانِ رسول (ص) پر دن دہاڑے گولیاں برسانا کسی بھی زاویے سے جمہوری عمل نہیں ہے. لاہور میں پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے والوں کے ورثاء کو تعزیت پیش کرتا ہوں اس بہیمانہ قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے.
ہمیں امید ہے علامہ صاحب مکتب تشیع کی نمائندگی احسن انداز میں کریں گے۔
اس توڑ پھوڑ سے دوسروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ہم خود نقصان اٹھاتے ہیں، یہاں سب نبی اکرم ص سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سب کا مقصد ایک ہے، پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہماری قوم اپنے دین اور اپنے نبی ص سے محبت کرتی ہے۔
حکومت نے مغربی ممالک میں جاری توہین آمیز خاکوں کے خلاف متفقہ قرارداد قومی اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، قرارداد حکومت اور اپوزیشن کے تمام ارکان کے دستخطوں کے ساتھ کل قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔