صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید جواد الموسوی نے جامع مسجد کشمیریاں لاہور میں خطبہ روز جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب امام وقت نہ جانتے ہوں، کہتے ہیں دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہوگی جو امام نہ جانتے ہوں امام نہ فقط اس زبان کو جانتے ہیں بلکہ اس کےبولنے والوں سے بھی بہتر لہجےمیں بولنا جانتے ہیں یہ پروردگار کی تائید ہے پھر فرمایا حق اور باطل کی جنگ میں امام وقت ہمیشہ سب سے آگے ہوگا کبھی امام پیچھے نہیں ہوگا۔
جامعۃ القائم ٹیکسلا میں القائم ایجوکیشن سسٹم کے نام سے حفظ قرآن کے شعبہ کی بنیاد رکھی گئی ہے جس میں حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ مروجہ تعلیم بھی دی جائے گی.
شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا یمن کی موجودہ صورتحال پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ اس وقت یمن کا بنیادی نقشہ تباہ ہوچکا ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، ہزاروں لوگ جن میں خواتین، بچے، بزرگ شامل ہیں وہ اپنی زندگیوں کی بازی ہار چکے ہیں۔
اس مقابلہ میں جامعہ الکوثر کے طلباء کی جانب سے مجموعا 16 تحقیقی مقالے وصول ہوئے۔ نشست میں ان کی نمائندگی کرتے ہوئے کفایة الاصول کے طالب علم شبیر حسین حیدری نے اپنے مقالہ کا خلاصہ احسن انداز میں بیان کیا.


انہی خِطّوں میں سے ایک خطہ پاکستان کے شمال میں واقع " گلگت بلتستان" ہے جو پورے پاکستان میں دینی اقدار کا ایک حقیقی معنی میں حامل علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور میں یوم پاکستان کے موقع پر ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہورہا ہے۔ جس میں ہزاروں فارغ التحصیل علمائے کرام ، فضلاء، زعماء ، خطباء اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات شرکت کریں گے۔
مرکزی دفتر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاق المداس کی مجلس عاملہ کا اجلاس 23 مارچ بروز منگل 8 بجے صبح حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور میں ہوگا جس میں مدارس کے سربراہان شرکت کریں گے۔
حجت الاسلام و المسلمین سید احمد اقبال رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے قانون کا نصاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس میں مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ رسول ص کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام اس امت میں بہترین قاضی ہیں، اس کی مثال خلفائے راشدین کا دور ہے جس میں جب بھی صحابہ کو کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی تو وہ مولا علی علیہ السلام کو مدد کے لیے پکاڑتے.
انہوں نے کہا کہ ضرورتمندوں اور مستحقین کی ضروریات پوری کرنا صاحب حیثیت افراد کیلئے واجبات میں سے ہے۔ چیئرمین سپریم کونسل نے مزید کہا کہ دین اسلام انسانیت کے احترام کا دین ہے، کسی سفید پوش اور ضرورت مند بھائی کی مدد کرنا بھی انسانیت کا احترام ہی ہے،