دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
مریم نواز شریف نے کہا کہ عالمی برداری کو نہتے فلسطینیوں، بچوں اور خواتین کے قتل عام پر جاگنا ہو گا، فلسطینی عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان کا ہر شہری فلسطینیوں کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دینے کی سازشوں کو مظبوط بنایا گیا، مذمتی قراردادیں و بیانات اور مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کا دن منانا بھی خوش آئند البتہ عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں۔
ان ملاقاتوں کے ذریعے پاراچنار کے مسائل اور انکے حل کیلئے سنجیدہ اور فوری اقدامات کے سلسلے میں مختلف میٹنگز میں شرکت اور ذمہ داران سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔
مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ درجنوں خفیہ ایجنسیاں موجود ہیں، مگر عوام کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی دلچسپی احتجاجی ریلیوں میں ہے، عوام کی فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر مسلط ناعاقبت اندیش غاصبوں اور ان کو لانے والوں نے ظلم ،بربریت اور درندگی کی انتہاء کر دی ہے ، اس کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ان قاتلوں کا ایجنڈا در اصل پاکستان کا قتل ہے۔
ریلی میں کراچی بھر کے علماء کرام و تنظیمی کارکنان نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء سے سیکرٹری جنرل و دیگر مرکزی و صوبائی ذمہ داران نے اہم خطاب بھی کیا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: عوام کے جان و مال کی حفاظت حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے، حکمران امن قائم کرنے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔
آغا اسد عباس نقوی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سانحہ پارا چنار کی مذمت کی جا رہی ہے، اس میں پاکستان کے شیعہ تو سراپا احتجاج ہیں ہی، اب تو غیر ملکی اور غیر مسلم بھی پارا چنار میں جاری نسل کشی کیخلاف سراپا احتجاج ہیں
رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ پاراچنار کی وجہ کوئی زمینی تنازعات نہیں بلکہ حکومت کی مجرمانہ نیت ہے، جو ان مسائل کا حل نہیں چاہتی، اس جرم میں وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں، وزیراعظم ہمارے جنازوں پر پیسوں اور امداد کا اعلان نہ کریں، بلکہ ہمیں زندگی یعنی زندہ انسانوں کو پاکستانی تصور کرکے امن سے جینے دیں۔