صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علامہ افضل حیدری کا کہنا تھا کہ پارا چنار ایک عرصے سے غیر انسانی رویوں کا شکار ہے، پارہ چنار کے راستوں کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنایا جائے اس کیلئے پارا چنار میں امن کے قیام کیلئے آرمی آپریشن ضروری ہے۔
قائدملت جعفریہ کامسلح افراد کی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ سے شہادتوں پر افسوس کا اظہار، شہداء کے قاتلوں کو کیفر و کردار تک پہنچایا جائے
صوبائی سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے مزید کہا کہ امن و امان کی بحالی، علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کریں۔
جمعیت اہلحدیث سکردو کے عالم دین کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ پاراچنار کے مسافروں پر حملے کرنے والے اسلام دشمن اور ملک دشمن ہیں، ایسے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں، ایسے عناصر کی بیخ کنی کیلئے ریاستی اداروں کو کردار ادا کرنا ہوگا، دہشت گردانہ حملوں میں ملوث افراد کسی بھی صورت میں رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
اپنے ایک بیان میں ایس یو سی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ریاست کہاں ہے، ایف سی کی گاڑیاں ساتھ ہوتے ہوئے بھی اتنا بڑا واقع رونما ہونا ریاست پر سوالیہ نشان ہے؟؟ کے پی حکومت مکمل ناکام ہوچکی۔
سیکورٹی اداروں کی سرپرستی میں جانے والے قافلے پر دہشتگردوں کی جانب سے فائرنگ کرنا سیکورٹی اداروں پر سوالیہ نشان ہے
انہوں نے کہا کہ حکمران اس ملک کو ہمارے خون کی قیمت پر چلانا چاہتے ہیں، یہ کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں خوارج کا مسافروں پر حملہ ہے، زخمیوں کو فوری طور پر اس علاقے سے نکالا جائے
سبی میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ پارہ چنار میں سرعام راستے روک کر مسافروں کو قتل کیا جا رہا ہے، جو کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاراچنار اور ضلع کرم میں کشیدہ حالات کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟ کون سے عناصر ہیں جو پاراچنار میں امن نہیں چاہتے؟ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو ایک مرتبہ پھر ہوش کے ناخن لینے کی انتباہ کرتا ہوں۔