صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قائد محترم نے ان اقدامات کو سراہا اور ضلع کرم میں جنگ بندی، زخمیوں کی فوری طبی امداد اور جنگ زدہ علاقوں کی عوام کے لیے بحالی کے اقدامات کو جلد شروع کرنے کے لئے رہنمائی و ہدایات دیں۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد نے گورنر کے پی کے سے زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے پشاور اور اسلام آباد منتقل کرنے کے مطالبے سمیت پاراچنار میں عوام کو اشیائے ضروریات زندگی اور ادویات فوری باہم پہچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ عالمی برداری کو نہتے فلسطینیوں، بچوں اور خواتین کے قتل عام پر جاگنا ہو گا، فلسطینی عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان کا ہر شہری فلسطینیوں کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دینے کی سازشوں کو مظبوط بنایا گیا، مذمتی قراردادیں و بیانات اور مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کا دن منانا بھی خوش آئند البتہ عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں۔
ان ملاقاتوں کے ذریعے پاراچنار کے مسائل اور انکے حل کیلئے سنجیدہ اور فوری اقدامات کے سلسلے میں مختلف میٹنگز میں شرکت اور ذمہ داران سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔
مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ درجنوں خفیہ ایجنسیاں موجود ہیں، مگر عوام کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی دلچسپی احتجاجی ریلیوں میں ہے، عوام کی فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر مسلط ناعاقبت اندیش غاصبوں اور ان کو لانے والوں نے ظلم ،بربریت اور درندگی کی انتہاء کر دی ہے ، اس کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ان قاتلوں کا ایجنڈا در اصل پاکستان کا قتل ہے۔
ریلی میں کراچی بھر کے علماء کرام و تنظیمی کارکنان نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء سے سیکرٹری جنرل و دیگر مرکزی و صوبائی ذمہ داران نے اہم خطاب بھی کیا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: عوام کے جان و مال کی حفاظت حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے، حکمران امن قائم کرنے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔