صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آغا اسد عباس نقوی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سانحہ پارا چنار کی مذمت کی جا رہی ہے، اس میں پاکستان کے شیعہ تو سراپا احتجاج ہیں ہی، اب تو غیر ملکی اور غیر مسلم بھی پارا چنار میں جاری نسل کشی کیخلاف سراپا احتجاج ہیں
رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ پاراچنار کی وجہ کوئی زمینی تنازعات نہیں بلکہ حکومت کی مجرمانہ نیت ہے، جو ان مسائل کا حل نہیں چاہتی، اس جرم میں وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں، وزیراعظم ہمارے جنازوں پر پیسوں اور امداد کا اعلان نہ کریں، بلکہ ہمیں زندگی یعنی زندہ انسانوں کو پاکستانی تصور کرکے امن سے جینے دیں۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ پاراچنار کے خلاف شیعہ جماعتوں نے مزار قائد نمائش چورنگی سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی ماتمی ریلی نکالی، جو گورنر ہاؤس پہنچ کر احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔
مرکزی نائب صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری نے نو منتخب صدر سے حلف لیا۔جس کے بعد سید ساجد حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا شیعہ علماءکونسل الٰہی تنظیم ہے، جس کی قیادت نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور قومی وقار کے لئے جدوجہد کی ہے۔
کانفرنس میں ، غزہ ، لبنان ، شام، یمن ، پاراچنار اور کشمیر کے مظلومین کی حمایت میں قراردادیں بھی پاس کی گئیں
مظاہرین نے احتجاج کے موقع پر حکومت وقت، انتظامیہ اور سکیورٹی پر مامور دیگر ذمہ داران کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور پاراچنار کے مظلومین کو انصاف فراہم کرنے، قاتلوں اور سہولتکاروں کیخلاف سخت اقدامات اٹھانے اور غفلت برتنے والے ذمہ داران کیخلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مقررین نے کہا کہ ہم کے پی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے
احتجاجی ریلی میں لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر شرکائے ریلی نے نعرہ بازی کی اور سانحہ کرم پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔
احتجاجی ریلی میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدیدار اور مجلس وحدت مسلمین، جعفریہ سٹوڈنٹس ،امامیہ سٹوڈنٹس ،سول سوسائٹی اوردیگر تنظیموں کے نمائندوں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور پارہ چنار کے شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔